بحرین: مسلم خاتون پر ہندو مذہب کی توہین کرنے کا مقدمہ دائر

بحرین میں مسلم خاتون پر ہندو مذہب کی توہین کرنے کا مقدمہ...
شائع 17 اگست 2020 08:28am

بحرین میں مسلم خاتون پر ہندو مذہب کی توہین کرنے کا مقدمہ دائرکردیا گیا، خاتون نے شاپ میں مجسموں اور بُتوں کو توڑنے کے اعتراف کیا، پبلک پراسیکیوشن نے مقدمے میں متعدد دفعات لگائیں، بحرینی بادشاہ کے مشیر کا کہنا ہے کہ خاتون کا اقدام ناقابل قبول ہے۔

العربیہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں ایک خاتون نے دارالحکومت مناما کے علاقے جوفیر کی شاپ میں جاکر ہندو مذہب کی علامت بُتوں اور مجسموں کو ایک ایک کرکے توڑ دیا، 54 سالہ خاتون کے اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شیئر ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون جان بوجھ پر ہوش وحواس میں مجسموں کو زمین پر مار مار کر توڑ رہی ہے۔

بحرین پولیس نے مسلم خاتون پر ہندومذہب کی توہین کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ پولیس نے خاتون کو طلب کرکے قانونی کاروائی شروع کردی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن ٹیم کے سامنے خاتون نے اپنے اقدام کا اعتراف کیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن خاتون کے ریکارڈ بیان کو جاری بھی کیا ہے۔ خاتون کے اس اقدام پر توہین مذہب، توڑ پھوڑ سمیت دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔ بحرین کے بادشاہ کے مشیر شیخ خالد الخلیفہ کا کہنا ہے کہ خاتون کا اقدام ناقابل قبول ہے، کسی کے مذہب کی توہین اور علامتوں کی بے حرمتی کرنا بحرین کے لوگوں کی فطرت نہیں ہے۔ ہمارے لیے تمام مذاہب کا احترام ضروری ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی دعوے کے مطابق بحرین بھی متحدہ عرب امارات کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے۔اسرائیلی رپورٹ کےمطابق،بحرین اورعمان بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنےمیں متحدہ عرب امارات کی پیروی کرسکتےہیں،دونوں ممالک نے اسرائیل اوریواےای کے درمیان معاہدےکا خیر مقدم کیا تھا۔

اسرائیلی رپورٹ کےمطابق،بحرین اورعمان بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنےمیں متحدہ عرب امارات کی پیروی کرسکتےہیں،دونوں ممالک نے اسرائیل اوریواےای کے درمیان معاہدےکا خیر مقدم کیا تھا۔

Read Comments