کراچی پر کمیٹی میں وفاق اور سندھ کے نمائندے شامل

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے حوالے سے...
شائع 18 اگست 2020 08:35pm

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے حوالے سے بنائی جانے والی فیسلیٹیشن کمیٹی میں کوئی سیاسی جماعت نہیں صرف وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندے شامل ہونگے اور یہ کمیٹی ترقیاتی کاموں میں درپیش رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ہوگی ۔

سکھر میں نیب آفس میں پیشی اور این آئی سی وی ڈی میں پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ نیب نے کچھ روز قبل سوالات بھیجے تھے 2017اور 2018 میں کریڈٹ پر دی گئی گندم کے حوالے سے اس کےجوابات دینے آیا تھا تمام جوابات آئین اور قانون کے مطابق دیئے پندرہ منٹ میں بیان دے دیا تھااس کے بعد وزیراعلی کے اختیارات کیا ہیں سمری کس طرح منظور کی جاتی ہے کے بارے میں بات چیت ہوتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ بارشوں میں کراچی کی حالت ہوتی تھی یہ سب کو معلوم ہے 2007 کی بارشوں میں ایک ہی دن میں 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے 2009 میں ایک ہی دن میں 125 ملی میٹر بارش ہوئی تھی اور 50 افراد جاں بحق ہوئے تھے2010 میں رپورٹ ہے کہ شاہراہ فیصل چار دن تک بند رہی تھی حالیہ بارش میں کچھ علاقوں میں پرابلمز آئیں مگر ہم نے ان کو بھی حل کردیا بارش کے بعد وزیر اعظم نے این ڈی ایم اے چیئرمین کو کراچی بھیجا کراچی میں 38 نالے ہیں اور این ڈی ایم اے چیئرمین سے طے ہوا کہ تین نالے وہ صاف کریں گے 35 نالے سندھ حکومت صاف کرے گی جن کی صفائی کا کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران وفاقی حکومت سے مختلف چیزوں پر بات ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ دو سال پہلے کریڈٹ پر دی گئی گندم کی ریکوری نہیں ہوئی تھی۔

Read Comments