فیصل آباد میں رفاعی پلاٹس اور گرین بیلٹس پر قائم تمام تجاوزات ختم کرنےکا حکم
سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں رفاعی پلاٹس اورگرین بیلٹس پرقائم تمام پٹرول پمپس اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پورے شہرکا سروے کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، معاملے کا جائزہ لے کرذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں۔
چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پنجاب میں سرکاری زمین لیز پر دینے کے معاملے پر سماعت کی،اس سلسلے میں ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور کمشنر فیصل آباد پیش ہوئے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر فیصل آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر صاحب !پورے شہر کے چپے چپے کا سروے کریں،یہ زمین جس مقصد کیلئے مختص ہوئی اس پر صرف وہی کام ہونا چاہیئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا شہر میں گرین بیلٹس اور جوئے پارک میں بنے پٹرول پمپ ہٹ گئے،جس پر کمشنر فیصل آبادنے بتایا کہ دونوں جگہوں سے پٹرول پمپ ختم کردیئے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ گرین بیلٹس کی زمین پر پمپ کیسے بن گیا؟،جس پر کمشنر فیصل آباد نے جواب دیا کہ یہ زمین 30 سال پہلے لیز کی گئی تھی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معاملے کا جائزہ لےکر ذمہ داروں کیخلاف ایکشن لیں۔
چیف جسٹس نے پٹرول پمپس ختم کرنے کے حکم سے متعلق پوچھا تو کمشنر فیصل آباد نے پٹرول پمپ خالی کروانے کا بتاتے ہوئے کہاکہ عدالت کے حکم سے طاقت ملی جس پر مکمل عمل درآمد کریں گے، سب کیخلاف ایکشن ہوگا ۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پنجاب صوبے بھرمیں رفاعی پلاٹس اورگرین بیلٹس پر ایسی تجاویزات کیخلاف ایکشن لے گی۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ گرین بیلٹس شہر کے پھیپھڑے ہوتے ہیں جبکہ جسٹس قاضی امین نے کہاکہ شہرکو چلانا انتظامیہ کا کام ہے۔
جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شہروں کاچلانا ارکان پارلیمنٹ یا ججزکا کام نہیں،ایسی جگہوں پر کمرشل سرگرمیاں انتظامیہ کی ناکامی ہے۔کمشنرصاحب! آپ کے پاس اختیارات ہیں ،قانون اوراختیارات کا استعمال کریں ۔
عدالت نے فیصل آباد میں گرین بیلٹس اور رفاعی پلاٹس پر تمام غیرقانونی تجاوزات ختم کرکے انہیں اصل شکل میں بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ 3 ہفتے میں طلب کرلی۔
