سرکاری اراضی پر قبضے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟اسلام آبادہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل پارک ایریا میں سرکاری اراضی پر ...
شائع 19 اگست 2020 12:16pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل پارک ایریا میں سرکاری اراضی پر قبضہ کیس میں ریمارکس دیئے کہ سرکاری اراضی پر قبضے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟سرکاری اراضی پر قبضہ کروانے والے افسران کیخلاف کیس نیب کو بھیجا جائے گا۔

اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے نیشنل پارک ایریا اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

وکیل درخواست گزارنے بتایا کہ سی ڈی اے حکام کی ملی بھگت سے سینیٹراورنگزیب اورکزئی نے 300 کنال اراضی پر قبضہ کرلیا ۔

جسٹس محسن اختر نے سی ڈی اے ڈائریکٹر ماحولیات سے استفسار کیا کہ سرکاری اراضی پر قبضے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟ میٹروپولیٹن کارپوریشن وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیرسرکاری اراضی نہیں دے سکتی۔

جس پر سی ڈی اے ڈائریکٹر نے جواب دیا کہ سینیٹراورنگزیب اورکزئی کو پودے لگانے کی اجازت دی ،تعمیرات کی نہیں۔

عدالت نے سرکاری اراضی پر مبینہ قابض سینیٹراورنگزیب اورکزئی، چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک روز کیلئے ملتوی کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کروانے والے افسران کیخلاف کیس نیب کو بھیجا جائے گا۔

درخواستگزار نے سینیٹر اورنگزیب اورکزئی پر بنی گالا میں سرکاری اراضی پرقبضے پر کیس دائر کر رکھا ہے۔

Read Comments