کیپٹن(ر) صفدر کی درخواست، پولیس کو مؤقف سن کر کارروائی کا حکم
لاہور کی سیشن عدالت میں کیپٹن (ر) صفدر کی وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس کو موقف سن کر کاروائی کرنے کا حکم دے دیا۔
سیشن عدالت میں کیپٹن (ر) صفدر کی وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے جو درخواست مقدمہ کےلئے دی اس پر دستخط جعلی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر دستخط جعلی ہیں تو آپ عدالت میں درخواست دے دی۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ نیب نے ان کو طلب کیا کہ جواب دیں لیکن یہ دھاوا بولنے چلے گئے۔انکی گاڑیوں سے پتھر برآمد ہوئے۔
کیپٹن(ر) صفدر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت اداروں کو استعمال کر رہی ہے۔ پراسیکیوشن ٹیم بھی بنائی گئی۔ اس کیس میں حکومت کی اتنی توجہ ہے کہ ایس پی خود عدالت میں پہنچے ہیں۔
فرہاد علی شاہ نےاپنے دلائل میں مزید کہا کہ پولیس کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ بھی جھوٹی ہے۔ بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ پتھر سے نہیں ٹوٹ سکتا، مریم نواز پر حملہ کیا گیا۔ پولیس آرڈر کے مطابق پولیس کی انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ علیحدہ ہے۔ ایس ایچ او کو کیسے پتا چل گیا کہ یہ درخواست غلط ہے۔
دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے تھانہ انچارج کو درخواست گزار کا وقف سن کر کاروائی کرنے کا حکم دے دیا۔