پیپلزپارٹی کی نیت ٹھیک نہیں،خرم شیر زمان

کراچی میں ساتواں ضلع بنانے پر تحریک انصاف کے رہنما خرم شیرزمان...
شائع 20 اگست 2020 03:50pm

کراچی میں ساتواں ضلع بنانے پر تحریک انصاف کے رہنما خرم شیرزمان نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کی نیت ٹھیک نہیں، انہوں نے کراچی کا ساتواں ضلع اپنا مال بنانے کے لیے بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں وہ اپنے ایسے ایڈمنسٹریٹزر کو بٹھائیں گے جو شہر میں دودھ اور سبزیوں کی قیمتیں کنٹرول نہیں کرسکے تھے۔

خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو شہر سے کوئی ہمدردی نہیں وہ کراچی میں کام نہیں کرنا چاہتی۔

دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہارالحسن نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا ساتواں ضلع پیپلزپارٹی نے مال بنانے کے لیے بنایا۔

آج نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کراچی کی میٹرو پولیٹن طاقت کو تقسیم کرکے کراچی اور پاکستان کو کمزور کیا گیا، پیپلزپارٹی کا کراچی میں اسٹیک نہیں وہ کراچی کا بھلا نہیں چاہتی ۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں کراچی میں ساتواں ضلع بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ نیا ضلع، ضلع جنوبی اور غربی کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہوگا۔

وزیر اعلٰی سندھ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کراچی سمیت سندھ بھر میں انتظامیہ امور بہتر کرنے کیلئے نئے اضلاع بنانے پر غور ہوا۔ وزیر اعلٰی نے تمام اضلاع کی اسسٹمنٹ کے بعد نئے اضلاع کی قیام کی تجاویز کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی کا ضلع غربی 39 لاکھ 14 ہزار 757 نفوس پر مشتمل ہے، آبادی کے لحاظ سے یہ سندھ کا سب س بڑا ضلع ہے، جس میں کل سات سب ڈیویژنز ہیں۔ ان میں اورنگی، سائٹ، منگھوپیر بلدیہ ٹاون، مومن آباد، ہاربر اور ماڑی پور شامل ہیں۔

ان میں سے تین سب ڈویژنز سائٹ ماڑی پور اور ہابر پر مشتمل ضلع تشکیل دیا جائے، جس کیلئے کیماڑی ضلع کا نام تجویز کیا گیا۔

وزیر اعلٰی سندھ نے رائے دی کہ شہر کے دیگر اضلاع کے نام بھی تبدیل کرکے علاقوں کے نام پر رکھے جائیں اور ضلع جنوبی کو ضلع کراچی کے نام سے پکارا جائے۔ کابینہ کے چند اراکین نے ضلع خیر پور کو بھی دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔

کراچی کے ساتویں ضلع کا نام کیماڑی ہوگا جس میں سائٹ، بلدیہ ٹاؤن، ہاربر اور ماڑی پور کا علاقہ شامل ہوگا۔

نئے کیماڑی ضلعے میں منگھوپیر، سائٹ، بلدیہ، اورنگی، مومن آباد کے علاقے بھی شامل ہوں گے۔

Read Comments