وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والے ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق زلفی بخاری نے تجویز دی کہ نوازشریف کی واپسی کیلئے سرکاری طور پر رابطہ کیا جائے، جبکہ وزیراعظم نے دوٹوک کہا کہ حکومت سارے قانونی راستے اختیار کرے گی۔
زلفی بخاری نے تجویز دی ہے کہ نوازشریف کی واپسی کیلئے سرکاری طور پر رابطہ کیا جائے۔ جس پر وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت سارے قانونی راستےاختیار کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے اور کورونا کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں اپوزیشن کی سرگرمیوں، نیب کیسز، حکومت پر بڑھاتے ہوئے دباؤ پرمشاورت ہوئی۔
نوازشریف کی لندن سے سیاسی سرگرمیوں پر مولانا فضل الرحمان کے سیاسی پلان پر بھی غورکیا گیا۔
اس کے علاوہ فواد چوہدری نے نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری کے کیسز پر بریفنگ دی۔
فوادچوہدری نے بریفنگ میں بتایا کہ شہبازشریف کے خلاف تحقیقات کے 42 والیم بنتے ہیں، آصف زرداری کے خلاف تفیتش کے 61 والیم ہیں۔
ڈاکٹر شہباز گل نے نوازشریف کی لیبارٹری رپورٹ میں ممکنہ ہیر پھیر پر بریفنگ دی۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ نوازشریف علان کرانے لندن گئے، اب وہاں بیٹھ کر سیاست شروع کردی، اپوزیشن اپنے کیسز سے بچنے کے لیے حکومت کو ناکام کرنے پر تلی ہے۔
بریفنگ کے مطابق اپوزیش نے پہلے مک مکا کرکے کرپشن کی، اب مک مکا کرکے چوری بچانا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ترجمانوں کانوازشریف کی لیبارٹری رپورٹس کے معاملے کی تحقیقات پر اتفاق کیا، جبکہ وزیراعظم نے ترجمانوں کے اجلاس میں قومی مفاد پر "زیرو ٹولیرینس" کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ترجمانوں سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن کو کوئی این آر او نہیں دیں گے، ہم ملکی دولت لوٹنے والوں کو کیسے فری ہینڈ دیدیں۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی بھی ڈائیلاگ نہیں ہوگا.