کراچی کے موسم کا حال اب سوشل میڈیا سے معلوم ہونے لگا
روشنیوں کا شہر کراچی اب نالوں کا شہر کے نام سے جانا جارہا ہے ،گذشتہ کئی برسوں سے مون سون روٹھ سا گیا تھا اس شہر سے اور باسی بھی عادی سے ہوگئے تھے پر اچانک سال 2020 نے کراچی کی پرانی رونق بحال کرادی اور اس بار مون سون کے 5 سیزن لگ گئے جس نے اس شہر کا حلیہ بگاڑدیا۔
جگہ جگہ گڑھے اور نالے ابلنا معمول بن گیا،حکومتی ادارے بھی بے بس تھے ان حالات سے نپٹنے کا مناسب انتظام اور تجربہ صفر تھا،ایسے میں کراچی کی پولیٹیکل پارٹیز اپنے اپنے انداز سے صفائی کا نعرہ اور پھر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بعد کچھ ٹائم صفائی پر صرف کرنے کو ترجیع دینے لگیں۔ حال یہ کہ کسی صحافی نے حکومتی ارکان سے سوال کیا تو ان کو ذاتیات کا کہہ دیا۔
اب بہلا کون اس شہر کا ضامن ہے؟
اس شہر کے بگاڑ میں بہت سے لوگوں اور اداروں کا ہاتھ ہے ،گٹر ہو یا صحت کا کوئی مسلہ سب ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں،کوئی ذمہ داری نہیں لیتا ،اب اس بار موسم کی کروٹ نے عوام کی چیخیں نکال دی،بارش کی پیشن گوئی نے شہر کے باسیوں میں کھلبلی مچادی ہے۔
ہمارے اپنے محکمے تو بارش کی پیشن گوئی پر کم ہی پورے اترتے ہیں۔ مگر چند سالوں سے سوشل میڈیا پر کچھ پیجز ہیں جن کی معلومات اور پیشن گوئیاں کافی حد تک سچ ثابت ہوئی ہیں۔ اور اب لوگ موسم کا حال ان ہی پیجز سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے کام اس ہی حساب سے ترتیب دیتے ہیں۔
فیس بک کا ایک پیج اس حوالے سے کافی مقبول ہے جس کا نام ویدر اپ ڈیٹ ہے جس کو جواد میمن نامی صاحب چلاتے ہیں۔ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے میڈیا چینل اس ہی پیج سے معلومات حاصل کر کے اپنے خبرناموں میں استعمال کرتے ہیں۔
اس بار ان کی پیشگوئی ہے کہ 24 سے 28 اگست کو ہونے والی بارشیں بہت خطرناک ہوسکتی ہیں، (اللہ بہتر اور رحم کرنے والا ہے ) انہوں نے حکومتی اداروں اور عوام سے اپیل کی ہے کے حفاظتی اقدامات کو مذید بہتر بنائیں ورنہ نقصان کا کافی اندیشہ ہے ۔
