سندھ میں مدارس کو تعلیمی اداروں کے طورپر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ
کراچی : سندھ حکومت نے صوبے میں موجود مدارس کو تعلیمی اداروں کے طورپر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلی مراد علی شاہ کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نیشنل ایکشن پلان سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیراطلاعات سندھ ناصرشاہ،ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب،چیف سیکرٹری اورمتعلقہ افسران شریک ہوئے اس کے علاوہ کور کمانڈرکراچی،ڈی جی رینجرز اورآئی جی سندھ مشتاق مہر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
آئی جی سندھ نے بریفنگ میں بتایا کہ سندھ میں 8195 مدارس اور امام بارگاہیں ہیں، فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں مدارس تعلیمی اداروں کے طورپر رجسٹرڈ کیے جائیں گے اور انہیں محکمہ تعلیم رجسٹرڈ کرے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا مدارس کا مفت تعلیم دینے میں اہم کردار ہے۔
مشیر قانون نے بریفنگ میں بتایا کہ اسٹریٹ کرائم کے خاتمے سے متعلق قانون سازی کی تیاری جاری ہے، نئے قانون کی تیاری کیلئے ہائیکورٹ سے مشاورت کررہے ہیں۔
مشیر قانون کی بریفنگ پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صرف قانون بنانا کافی نہیں مکمل عملدرآمد ضروری ہے، اسٹریٹ کرائمز کے کیسز ایسے بنائے جائیں کہ ملزمان کو سزا ہو۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالت سے اسٹریٹ کرائمز کے کیسز کیلئے الگ جج لگانے کی درخواست کی جائے گی۔
اجلاس میں شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےتاکہ ہر آنے جانے والی ٹریفک اور لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے جبکہ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیف سٹی پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ سیف سٹی اتھارٹی کی قانون سازی مکمل کی جائے، اس پروجیکٹس کیلئے فنڈز کا انتظام کر رہا ہوں،اجلاس میں وزیراعلی کو مختلف ترقیاتی اسکیموں سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ بارشوں کے بعد شہر کی سڑکوں کا سروے کیا جائے گا، جو سڑکیں بارشوں سے خراب ہوئی ہیں اُن کی مرمت کی جائے گی۔
