'تمہاری نظر میں ان کا قصور صرف مسلمان ہونا تھا'
گزشتہ برس نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 51 افراد کو قتل کرنے والے شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بتایا گیا کہ وہ ایک تیسری مسجد کو نشانہ بنانے کا بھی منصوبہ رکھتا تھا۔ اس کا ان مساجد کو نذر آتش کرنے کا بھی منصوبہ تھا اور وہ 'زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک' کرنا چاہتا تھا۔
دوسری جانب حملے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین آج کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے عطا الایان کی والدہ میسون سلامہ نے ٹارنٹ سے کہا کہ 'تم نے خود کہ یہ حق دے دیا کہ تم 51 معصوم لوگوں کی جان لو، تمہاری نظر میں ان کا قصور صرف مسلمان ہونا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ملزم برینٹن ٹارنٹ ’فہم و ادراک سے گزر گئے۔ ہم تمہیں معاف نہیں کر سکتے۔'
آسٹریلوی شہری ٹارنٹ کے خلاف 51 قتل، 40 اقدامِ قتل اور دہشتگردی کی مقدمے ہیں اور وہ ان میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
29 سالہ ٹارنٹ کو عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ نیوزی لینڈ میں اس سے پہلے کبھی اتنی سخت سزا نہیں عائد کی گئی ہے۔
ان حملوں کی کچھ فوٹیج ٹارنٹ نے براہ راست سوشل میڈیا پر بھی نشر کی۔ ان حملوں سے جس سے پوری دنیا میں صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کو اپنے بندوق کے قوانین میں تیزی سے تبدیلیاں کرنی پڑیں۔