لیبیا کے وزیر اعظم کا ترکی سے اظہارِ تشکر

لیبیا کے وزیر اعظم فیض الا سراج نے لیبیائی عوام سے تعاون کرنے والے ترکی کاشکریہ ادا کیا۔
شائع 25 اگست 2020 06:49pm

لیبیا کے وزیر اعظم فیض الا سراج نے لیبیائی عوام سے تعاون کرنے والے ترکی کاشکریہ ادا کیا۔

فیض الاسراج نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں واضح کیا کہ بحران سے نمٹنےاور حکومت قائم کرنے کےلئے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

سراج نے بتایا کہ کوٹہ عمل درآمد سے ہٹ کر ہنگامی طور پر کابینہ میں رد وبدل کیا جائیگا۔

سراج نے صدارتی کونسل اور عام انتخابات کو آئندہ برس ماہ مارچ میں منعقد کیے جانے کی اپیل کو بھی دہرایا۔

انتخابات کو اپنے مفادات کی خاطر منعقد نہ کرانے کےخواہاں فریقین موجود ہونے کاذکر کرنےوالے سراج کا کہنا تھا کہ ہم لیبیا کے تمام تر فریقین کے لئے قابلِ قبول کسی معاہدے پر عمل درآمد کے لئے تیار ہیں۔

لیبیاکےعوام کو معیار زندگی کے ابتر ہونے کے جواز کے ساتھ اشتعال انگیز کاروائیوں کا آلہ کار نہ بننے کی اپیل کرنے والے سراج نے بتایا کہ میں نے تمام تر سرکاری اداروں کو پر امن مظاہروں کا تحفظ کرنے اور محض سبوتاژ کرنے کے درپے عناصر کے خلاف مداخلت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جنگ سے متاثرہ علاقوں کےلئے ہرجانہ فنڈ قائم کیے جانے کا اعلان کرنے والے لیبیاکے وزیر اعظم نے مرکزی بینک سے کرنسی کی گردش کو ممکن بنانے،زر مبادلہ کے نرخوں پر توجہ دینے اور متوازی منڈی سے نبردِ آزما ہونے کی بھی درخواست کی۔

متعدد ممالک کے ان کھٹن حالات میں ان کو ترک کرنے والے ایک دور میں لیبیائی عوام کے شانہ بشانہ ہونے والے ترکی سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے سراج نے بتایا کہ 'ہم ترک فرموں سے متعلق اقتصادی فائلز اور مذکورہ فرموں کے ادھورے رہنے والے منصوبوں کی تکمیل کےلئے ان کے ملک کو لوٹنے کے معاملے میں ترکی کے ساتھ روابط میں ہیں۔ ہمارے اداروں کے لئے سود مند ثابت ہونے کی شکل میں ہم ترکی کے ساتھ امتیازی تعلقات استوار کرنے کی کوششوں میں ہیں۔

Read Comments