کرائسٹ چرچ سانحہ: قاتل ٹیرنٹ کے خلاف عدالتی کاروائی کا دوسرا روز

لِن ووڈ مسجد کے امام ابراہیم محمد نے اپنےبیان میں کہا کہ یہ ایک نسل پرست اور دہشتگرد انہ کاروائی تھی، جس نے نہ صرف مسلم امہ کو بلکہ نیو زی لینڈ کو شدید متاثر کیا ہے۔
اپ ڈیٹ 25 اگست 2020 07:24pm

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر حملہ کرتے ہوئے51 افراد کو موت کی نیند سلانے اور 49 کو زخمی کرنے والے دہشتگرد ٹیرنٹ کے خلاف عدالتی کاروائی میں شہدا کے لواحقین کے بیانات قلم بند کیے جانے کا عمل جاری ہے۔

کل شروع ہونے والی عدالتی پیشی کے دوران شہید طارق عمر کے والد راشد عمر نے دہشتگرد ٹیرنٹ کے اس کے بیٹے کو قتل کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں اس قاتل کے دل میں سکون پیدا ہونے کا دعا گو ہیں لیکن مجھے شک ہے کہ یہ کبھی بھی دلی تسکین حاصل نہیں کر پائے گا۔میں اسے معاف نہیں کرتا۔

لِن ووڈ مسجد کے امام ابراہیم محمد نے اپنےبیان میں کہا کہ یہ ایک نسل پرست اور دہشتگرد انہ کاروائی تھی، جس نے نہ صرف مسلم امہ کو بلکہ نیو زی لینڈ کو شدید متاثر کیا ہے۔

شہید نعیم راشد کی اہلیہ اورطلحہ نعیم کی والدہ امبرین نعیم نے بتایا کہ ان کا شوہر مسجد میں موجود دیگر نمازیوں کی جان بچانے کی کوشش کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔اس المیہ کے بعد سے ابتک مجھے ٹھیک طریقے سے نیند نہیں آسکی اور میں سمجھتی ہیں کہ اب کے بعد بھی ایسا ہی ہو گا۔ لہذا اس قاتل کی سزا پوری عمر تک جاری رہنی چاہیئے۔

Read Comments