بلوچستان:بارش،19 جاں بحق، 887 مکانات تباہ
بلوچستان میں بارش کے بعد نو اضلاع میں سیلابی صورتحال ہے اور اب تک انیس افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ آٹھ سو ستاسی مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔
بلوچستان کے نو اضلاع میں بھی طوفانی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے ۔
بارش کےدوران مختلف حادثات میں انیس افراد جاں بحق اور تیرا زخمی ہوئے ۔ آٹھ سو ستاسی مکانات مکمل تباہ ہوئےجبکہ اٹھانوے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔
مسلسل بارشوں سے بلوچستان کے نو اضلاع متاثر ہیں اور ان9اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی پانی نصیرآباد میں داخل ہوگیا ہے جہاں تحصیل چھتر کے دیہات زیر آب آگئے ہیں ان علاقوں نے لوگوں نےنقل مکانی شروع کردی ہے، اس سیلابی پانی کا رخ ربیع کینال اور پٹ فیڈر کینال میں کردیا گیا ہے تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔
دریائے ناڑی میں بھی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ ہے، پہاڑوں سے آنے والے برساتی ریلوں کی وجہ سے ضلع لسبیلہ کے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔
کوئٹہ سے مچھ اور ہرنائی کا زمینی راستہ تیسرے روز بھی منقطع ہے ۔
ژوب ۔ہرنائی ۔خضدار ۔لسبیلہ ،تربت ،قلات میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔