یاسر عرفات کی بیوہ اسرائیلی ٹی وی پر نمودار، فلسطینی اتھارٹی کو دھمکی

فلسطین کے سابق صدر یاسر عرفات کی بیوہ سُہا عرفات نے ایک اسرائیلی...
شائع 29 اگست 2020 10:14am

فلسطین کے سابق صدر یاسر عرفات کی بیوہ سُہا عرفات نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کی اسکرین پر نمودار ہو کر انکشاف کیا ہے کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کے عہدے داران کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

عرب ٹی وی کے مطابق یہ دھمکیاں انسٹاگرام پر سُہا کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ کرنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس بلاگ میں یاسر عرفات کی بیوہ نے امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار ہونے کے بعد فلسطینی عوام کی طرف سے متحدہ عرب امارات سے معذرت کی تھی۔

اسرائیلی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سُہا نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی نے انہیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو نقصان پہنچایا تو اتھارٹی کے افراد کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ اسرائیلی ٹی وی پر پہلی مرتبہ اپنی آواز کے ساتھ ظاہر ہونے والی سُہا عرفات نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے ان کے گھرانے کے لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔

سُہا عرفات کے بھائی غابی الطویل کو جو قبرص میں فلسطینی سفیر ہیں، رام اللہ طلب کر کے ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غابی نے سفارت خانے کی عمارت میں امارات مخالف سرگرمیوں کا انتظام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سہا نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ یاسر عرفات کے گھرانے کو برباد کرنا چاہتے ہیں، ہم ان سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ سہا نے خبردار کیا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کے سینئر عہدے داران نے ان کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی تو وہ ان باتوں کا انکشاف کر دیں گی جو ان کے پاس موجود یاسر عرفات کی یادداشتوں میں ان عہدے داران کے بارے میں تحریر ہیں۔

سُہا کے مطابق اس کا تھوڑا سا حصہ نشر کرنا ہی ان لوگوں کے لیے جہنم کے دروازے کھول دے گا۔ عرفات کی بیوہ نے چینل کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ میں ان لوگوں کو فلسطینیوں کے سامنے جلا کر راکھ کر دوں گی۔

سُہا نے انکشاف کیا کہ ان کو بدنام کرنے کی مہم کے پیچھے خاتون عہدے دار انتظار ابو عمارہ کا ہاتھ ہے۔ یہ صدر محمود عباس کے دفتر کی ڈائریکٹر ہیں۔ سہا نے فلسطینی صدر محمود عباس سے اپیل کی کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کریں اس سے قبل کہ وہ اس مقصد کے لیے دنیا کے کسی دوسرے سربراہ یا رہ نما کا رخ کریں۔

Read Comments