ملک بھر میں یوم دفاع آج ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے
ملک بھر میں یوم دفاع پاکستان آج ملی جوش وجذبے اور شہدائے وطن کے ساتھ محبت وعقیدت کے ساتھ منایا جارہا ہے۔
یوم دفاع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔
نماز فجر کے بعد ملک و قوم کی سلامتی اور خوشحالی کےلئے خصوصی دعائیں اور شہداءکےلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں تمام کنٹونمنٹس کے ساتھ مختلف شہروں میں پروقار تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔
عسکری و سول افسران 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں جام شہادت نوش کرنے اور نشان حیدر پانے والے شہدا ءکی یادگاروں پر پھول چڑھانے کے علاوہ قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ شہداءکے اہل خانہ سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔
بانی پاکستان محمد علی جناحؒ اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے مزارات پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریبات منعقد کا انعقاد کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ 55سال قبل ہماری پاک فوج نے قوم کے شانہ بشانہ دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر مادر وطن کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔6 ستمبر کا دن ہماری بہادرمسلح افواج کی جرات اورایثارو قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان امن کا علمبردار ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ یوم دفاع ہمیں افواج پاکستان اور قوم کے اس جذبہ اور بہادری کی یاد دلاتا ہے جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پچپن سال قبل دشمن کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملا دیا تھا۔جذبہ ستمبر 1965ء ہمارے دلوں میں آج بھی زندہ ہے ، میں بڑے فخرسے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی بدولت ہم بہت سے امتحانوں میں سرخرو ہوئے ہیں۔
یوم دفاع پر قوم کے نام پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اورجذبہ ایمانی نے آج پاکستان کوناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ ہم نے خطے کے امن اور سلامتی کیلئے مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی ہیں مگر ہمارا ازلی دشمن ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ ہم اپنے دفاع وسلامتی پر ہرگز سمجھوتا نہیں کریں گے۔
6 ستمبر 1965 کو دشمن کی جارحیت کے جواب میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی۔ بری ، بحری، فضائی اور جہاں مسلمان فوجیوں نے دفاع وطن میں تن من دھن کی بازی لگائی وہیں پاکستان میں بسنے والی اقلیت بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں پیش پیش رہی۔
چھ ستمبر کو دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے شیردل جوانوں نے مذہب اور فرقے سےبالاتر ہو کر وطن عزیز کے چپے چپے کا دفاع کیا، ایئر مارشل ایرک گورڈن ہال نے آزادی کے بعد پاک فضائیہ کے انتخاب کو ترجیح دی جبکہ وہ بھارتی ایئر فورس کا انتخاب بھی کر سکتے تھے، جنگ چھڑی تو انہیں احساس ہوا کہ پاک فضائیہ کے پاس بمبار طیاروں کی کمی ہے۔
انہوں نے سی ون تھرٹی ٹرانسپورٹ طیارے میں تبدیلی کی اور اسے بمباری کے قابل بنایا، ان طیاروں کی مدد سے انہوں نے لاہور کے اٹاری سیکٹرمیں بھارت کے ہیوی توپ خانے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
اسی طرح پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ میک پسٹن جی سپاری والا نے بلوچ ریجمنٹ کی قیادت میں بھارتی سورماوں کو خاک چٹا دی تھی ان کے علاوہ ایئرفورس پائلٹ سیسل چودھری، اسکورڈرن لیڈر ڈیسمنڈہارنے، ونگ کمنڈر نزیر لطیف، ونگ کمانڈر میرون لیزلی اور سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی سمیت بے شمار اقلیتی برادری نے مقدس سرزمین پر بھارت کے ناپاک قدم روکنے کے لیے سر ڈھڑ کی بازی لگا دی تھی۔
پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں لاہور کے تین اطراف سے حملہ کیا تو عالمی سطح پر بھی بھارت کے اس مکار انہ رویے کی شدید مذمت کی گئی ۔ پاکستان کے سدا بہار دوست چین نے اپنی افواج کے ایک بڑے حصے کو بھارتی بارڈر کے ساتھ لا کھڑا کیا تھا اور مبصروں کے مطابق اسی خوف کی وجہ سے دشمنوں کے بزدل حکمران سیز فائر پر مجبور ہو گئے۔