گرین نمبرپلیٹ والی گاڑیوں سےشہری اغواہورہے ہیں، اسلام آبادہائیکورٹ
اسلام آبادہائیکورٹ نے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ وفاقی حکومت شہریوں کاتحفظ کرنےمیں ناکام ہوچکی ہے ، گرین نمبرپلیٹ والی گاڑیوں سےلوگ اغوا ہورہے ہیں کیایہاں سندھ پولیس کوبلائیں ؟۔
اسلام آبادہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتاشہری عبدالقدوس کی عدم بازیابی کیخلاف کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے شہری عبدالقدوس کی عدم بازیابی پرشدید برہمی کا اظہارکرتےہوئے وفاقی وزیرداخلہ اعجازشاہ کوآئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیا جبکہ سیکرٹری داخلہ کوبھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا گیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے طلبی کے احکامات جاری کرتےہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کوبھی آئندہ سماعت پرعدالتی معاونت کیلئےنوٹس جاری کردیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کاتحفظ کرنےمیں وفاقی حکومت ناکام ہوچکی ہے ، اٹارنی جنرل کو بتادیں آنکھیں بندکرنےسےمعاملات حل نہیں ہوں گے،گرین نمبرپلیٹ والی گاڑیوں سےشہری اغوا ءہورہے ہیں،اسلام آبادپولیس ناکام ہوچکی توکیاسندھ پولیس کوبلائیں ؟پولیس نےکبھی کسی ایجنسی والےکےملزم نہیں بنایا۔
دورانِ سماعت جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم نے عدالت کو بتایا کہ تھانہ کراچی کمپنی میں عبدالقدوس کے اغوا کی ایف آئی آر یکم جنوری 2020 کو درج ہوئی تھی، 50 لاپتا افراد کی جے آئی ٹی کی سربراہی میں کررہا ہوں۔
جسٹس محسن اختر نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب نا دے سکے تو پھر وزیراعظم کو بلائیں گے۔
عدالت نے وزیرداخلہ اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کرتے ہوئے سماعت 16 ستمبرتک ملتوی کردی۔
