ٹریفک سارجنٹ قتل کیس کا تفصلی فیصلہ جاری، ملزم کو بری کرنے کا حکم

عدالت نے ملزم سابق رکن اسمبلی مجید خان اچکزئی کےخلاف ثبوت ناکافی قراردےکر ان کو بری کرنے کاحکم دیا۔
اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2020 11:53pm

کوئٹہ کی ماڈل کورٹ نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس کا تفصلی فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے ملزم سابق رکن اسمبلی مجید خان اچکزئی کےخلاف ثبوت ناکافی قراردےکر ان کو بری کرنے کاحکم دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج/ماڈل کورٹ نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔پراسیکیوشن کی جانب سےعبدالمجید اچکزئی کےخلاف کافی ثبوت رکارڈپرنہیں لائے گئے۔

پہلے پولیس نے 20جون 2017کو نامعلوم افراد کےخلاف فوری مقدمہ درج کیا۔عبدالمجید اچکزئی کو 24جون 2017کوگرفتارکیاتھا ۔ملزم عبدالمجید نے تفتیش کےدوران بیان دیا کہ وہ نہیں ان کا ڈرائیورگاڑی چلارہاتھا۔ 14روزہ ریمانڈ کےدوران عینی شاہدین سےعبدالمجیدکی کوئی شناخت پریڈ نہیں کروائی گئی اور نہ ہی عینی شاہدین کی جانب سے عبدالمجید کو واقعہ میں نامزدنہیں کیاگیا۔پراسیکیوشن کےتمام 20گواہوں میں سے کسی نےتصدیق نہیں کی کہ گاڑی ملزم مجید خان چلارہاتھا پراسیکیوشن ملزم کا جرم سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا۔کیس میں شک کا فائدہ ملزم عبدالمجید کو دیاجاتاگیا. ملزم کو 302, 324, 320سمیت دیگر دفعات کےتحت الزامات سے بری کیاگیا۔

عدالت نے کیس پراپرٹی گاڑی کو کاغذات کی تصدیق کےبعد مالک کےحوالے کرنے کابھی حکم جاری کیا۔عدالت نے مرحوم ٹریفک سارجنٹ کےخون آلود کپڑےان کے ورثاء کے حوالے کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔

عدالت نےواقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی حامل سی ڈیزحفاظت میں رکھنےکاحکم دیا دریں اثنا پولیس نےسابق ایم پی اے عبدالمجیداچکزئی کی بریت کےفیصلے کےخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپیل کی درخواست کی تیاری آخری مراحل میں ہے ایڈیشنل آئی جی پولیس رزاق چیمہ کے مطابق اسپیشل کورٹ کے فیصلے کیخلاف جلد بلوچستان ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

Read Comments