سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 8سال بیت گئے،متاثرین تاحال انصاف کے منتظر
کراچی :سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 8سال بیت گئے، متاثرین تاحال انصاف کے منتظر ہیں،2012میں بلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر 250سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا،رواں ماہ میں مقدمہ کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہیں۔
کراچی میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے سانحہ بلدیہ کو گزرے 8 برس بیت گئے، تاریخ انسانی میں لکھا جانے والا سانحہ بلدیہ ٹاؤن جس میں 250افراد کو جلا کر راکھ کردیا گیا ،ہر سال 11ستمبر کو طلوع ہونے والا سورج لواحقین کی آنکھیں اشکبار کرجاتا ہے، ورثاء کو انصاف کی امید نظر آنے لگی۔
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ پر واقع گارمنٹس فیکٹری علی انٹرپرائزز میں بھتہ نہ دینے پرلگائی جانے والی آگ میں بے قصور خاندان اجڑ گئے تھے، 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری کے باہر موجود بے بسی کی تصویر بنے لواحقین اپنے پیاروں کی چیخ و پکار سن کر بھی کچھ نہ کرسکے ایسا جرم جس کو حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں ایک اپم موڑ اس وقت آیا۔
6فروری2015 کو عدالت میں رینجرز نے ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی متاثرین اور وکلا کہتے ہیں انصاف کی امید ہے ۔
مقدمہ میں ایم کیوایم کے رہنما روف صدیقی پیش ہوتے ہیں جبکہ کارکن رحمان بھولا، زبیر چریا سمیت دیگر کو جیل سے پیش کیا جاتا ہے۔
مقدمےمیں عدالت نے 17ستمبر کو حتمی دلائل طلب کرلئے ہیں قانونی ماہرین کے مطابق اس سانحہ کے متاثرین کو بہت جلد انصاف ملنے والا ہے۔
