ہنگامہ آرائی کیس :کیپٹن (ر)صفدر کی عبوری ضمانت میں16ستمبر تک توسیع
لاہور: انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے ہنگامہ آرائی کیس میں مسلم لیگ (ن)کے رہنما ءکیپٹن (ر)صفدر کی عبوری ضمانت میں 16ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے پولیس سے مقدمے کی رپورٹ طلب کرلی۔
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے نیب آفس ہنگامہ آرائی کیس میں دائر ضمانتوں کی درخواستوں کی سماعت کی، کیپٹن صفدر اور دیگر لیگی رہنما عدالت میں پیش ہوئے۔
تفتیشی آفسر نے عدالت کو بتایا کہ کیپٹن صفدرپرہنگامہ آرائی اوراشتعال انگیزی کرانےکاالزام عائدہے ،ملزم مریم نوازکی پیشی کےموقع پرپولیس پرپتھراؤ میں ملوث ہیں۔
کیپٹن صفدر کے وکیل فرہاد علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ چوہنگ پولیس نے نیب آفس پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے،ان کے مؤکل اپنی بیوی مریم صفدر کے ساتھ نیب آفس پہنچے تھے،جس پر بے بنیاد انسداددہشتگردی کا پرچہ درج کر دیا گیا، عدالت درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دے۔
عدالت نے پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں 16ستمبر تک توسیع کردی۔
اس سے قبل سیشن عدالت نے نیب آفس حملہ کیس میں کیپٹن صفدر سمیت 16 ملزمان کی درخواست ضمانتیں 7 اے ٹی اے کی بناء پر منسوخ کردی تھیں۔
”ن لیگ کی حکومت میں پنجاب پولیس کا 24گھنٹوں میں ملزم کو پکٹرنے کا ریکارڈ تھا“
دوسری جانب لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر)صفدر کا کہنا تھا کہ موٹروے زیادتی واقعہ پنجاب پولیس کا ٹیسٹ کیس بن گیا ہے،مسلم لیگ ن کی حکومت میں پنجاب پولیس کا 24گھنٹوں میں ملزم کو پکٹرنے کا ریکارڈ تھا۔
کیپٹن (ر)صفدر نے مزیدکہا کہ آئی جیز آئین اور قانون کے نوکر ہوتے ہیں کسی فرد واحد کہ نہیں،شعیب دستگیر کو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹانا ناانصافی ہے۔
