پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے پاس ڈی این اے پروفائلنگ کیلئے درکار کیمیکل ہی ختم

لاہور میں خاتون سے زیادتی کیس میں پولیس نے اب تک 50 سے زائد مشتبہ...
شائع 12 ستمبر 2020 08:34am

لاہور میں خاتون سے زیادتی کیس میں پولیس نے اب تک 50 سے زائد مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو پپہنچا دئے ہیں، سیمپل جائے وقوعہ کے قریبی دیہات سے مشتبہ افراد کے لئے گئے ہیں۔

8 اور 9 ستمبر کی درمیانی رات کو پیش آنے واقعے میں جائے وقوعہ سے خاتون کو کس نے ریسکیو کیا، ایف آئی آر اور ڈولفن اہلکار کے بیان میں تضاد سامنے آ گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ کا مدعی سردار شہزاد اپنے دوست جنید کے ہمراہ گوجرانوالہ سے جائے وقوعہ پر پہنچا اور خاتون کو تلاش کرنے پر وہ کچے راستے پر اپنے بچوں کے ہمراہ موجود تھی۔

جبکہ ڈولفن اہلکار کے مطابق وہ سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچا اور اس نے بمشکل خاتون کو راضی کیا اور اسے جنگل سے واپس موٹر وے پر لایا۔

کیس میں ملزمان کی تلاش کیلئے جیوفینسنگ کے بعد پولیس نے تین دیہات کی پروفائلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا اور خاص طور پر ایسے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے جو اپنے گھروں میں موجود نہیں ہیں۔ فُٹ پرنٹس کی مدد سے ملزموں کی تلاش کیلئے کھوجیوں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔

دوسری جانب آئی جی پنجاب نے اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والے مشتبہ افراد کی گرفتاری کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جس ٹیوٹر اکاؤنٹ سے یہ تمام انفارمیشن شیئر کی گئی وہ ان کا نہیں تھا، تاہم جعلی اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم کواطلاع کردی ہے۔

دوسری جانب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے پاس ڈی این اے پروفائلنگ کیلئے درکار کیمیکل ختم ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے لیے گئے نوٹس پر محکمہ خزانہ نے ایجنسی کو 5 کروڑ 44 لاکھ روپے جاری کر دیئے ہیں۔

Read Comments