وزیراعظم کا انٹرا افغان مذاکرات کے انعقاد کا خیرمقدم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ چالیس سال سے...
شائع 12 ستمبر 2020 08:52am

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ چالیس سال سے تشدد اور تنازعات سےمتاثر ہے۔ ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں۔ افغانستان کا پائیدار امن سیاسی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے انٹرا افغان مذاکرات کے 12 ستمبر کو انعقاد کے اعلان کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالا آخر ہماری مشترکہ کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بدامنی کے اثرات دہشتگردی، قمیتی جانی ومالی نقصان کی صورت میں پاکستان پربھی پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس تاریخی موڑ پر پاکستان نے مسلسل کوششوں سے افغان امن عمل میں معاونتی کردارادا کیا ہے۔ اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اب یہ افغان رہنماؤں پر محنصر ہے کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغان مفاہمتی عمل کا کامیاب انعقاد علاقائی امن واستحکام اورخوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے اَن تھک کوششوں کے ذریعے افغان امن عمل کو آسان بنانے میں اہم کردارادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امید کرتے ہیں تمام فریقین اپنے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ پاکستان امن و ترقی کے سفر میں افغان عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

واضح رہے کہ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات آج سے قطر میں شروع ہونے جا رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے تاریخی امن مذاکرات تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے اور کئی ماہ تاخیر کے بعد آج سے دوحہ میں شروع ہونگے۔

یہ طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کی پہلی ملاقات ہوگی۔ افغان حکومت کی اکیس ارکان پر مشتمل مذاکراتی ٹیم میں عبد اللہ عبداللہ سمیت دیگر وزرا اور ایک خاتون رکن فوزیہ کوفی بھی شامل ہیں، جب کہ طالبان کی اکیس رکنی کمیٹی کی قیادت مولوی عبدالحکیم کریں گے۔

ٹیم کے دیگر ارکان میں رہبر شوریٰ کے تیرہ ارکان بھی شامل ہیں۔ امریکا کی جانب سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو مذاکرات کا حصہ بنیں گے۔

Read Comments