'سماج دشمن عناصر کے خلاف سختی سے نمٹنا ہوگا'
قومی اسمبلی میں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کی بے حرمتی کے حالیہ واقعہ اور ملک بھر میں اس طرح کے واقعات پر بحث ہوئی۔
بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ خواتین کی بے حرمتی کے واقعات قابل مذمت ہیں۔
انہوں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجرم گرفتار ہوچکا ہے اس طرح کے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد کو مثالی سزائیں دینی چاہیں تاکہ مجرموں کو سخت پیغام دیا جائے اور شہریوں کی زندگی کا تحفظ کیا جاسکے۔
قائدحزب اختلاف نے اسپیکر کو موٹروے پر سیکیورٹی خامیوں کے جائزہ کےلئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی۔
وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ ریاست یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ خواتین اپنی تعلیم اور نوکری جاری رکھ سکتی ہیں۔
انہوں نے خواتین کے تحفظ کا مشترکہ پیغام دینے کےلئے ملکر کوششیں کرنے پر زور دیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے ملزمان کو عبرتناک سزا دینے پر زور دیا۔
انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ عورت کا احترام کیا جائے اور اسے مرد کو حاصل تمام حقوق دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین برابر کی شہری ہیں اور مردوں کی ذہنیت بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سی سی پی او لاہور کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ پولیس فورس میں مزید خواتین کو بھرتی کیا جائیگا۔
اپنے ریمارکس میں اسپیکر نے اراکین سے سرعام پھانسی کے حوالے سے سوال کیا کیونکہ اس طرح کے جرم کے خاتمے کےلئے کوئی راستہ نہیں بچا.
انہوں نے کہا کہ اجتماعی زیادتی کرنے والوں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف سختی سے نمٹنا ہوگا.
انہوں نے کہا کہ سخت قوانین رائج کرنے ہوںگے۔