افغانستان سےجلدبازی میں غیرملکی افواج کا انخلا غیردانشمندانہ ہوگا،وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن ممکن ہے،افغانستان سےجلدبازی میں غیرملکی افواج کاانخلاغیردانشمندانہ ہوگا،پاکستان میں پائیدار امن افغانستان میں امن و استحکام سے مشروط ہے، دوحہ مذاکرات سے افغان جنگ خاتمے کے قریب ہے، امن کیلئے تمام فریقوں نے ہمت اور لچک کا مظاہرہ کیا۔
امریکی جریدے میں افغان مفاہمت عمل سے متعلق اپنے مضمون میں وزیراعظم عمران خان نے افغانستان سے جلد بازی میں غیرملکی افواج کےانخلا کو غیردانشمندانہ قرار دے دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے2018میں افغانستان میں سیاسی حل کیلئےپاکستان کی مددمانگی تھی، افغانستان میں سیاسی حل کیلئےہرممکن تعاون فراہم کررہے ہیں،افغانستان میں امن و استحکام طاقت سے قائم نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ دوحہ میں طالبان اورافغان حکومت کے درمیان مذاکرات سے افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہو گا، پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور طالبان کے درمیان فروری میں امن معاہدہ ہوا جس نے افغان قیادت اورطالبان کےدرمیان بات چیت کی بنیاد فراہم کی۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کاجوراستہ ہم نےاختیارکیاوہ آسان نہیں تھا ،افغانستان میں امن کیلئےتمام فریقین نے ہمت اورلچک کامظاہرہ کیا،امریکا اوراتحادیوں نےافغان حکومت اورطالبان کےدرمیان قیدیوں کےتبادلےکیلئےتعاون کیا،افغان حکومت اورطالبان نےبرسوں سےامن کوترسےافغان عوام کی خواہش کوپوراکیا،بین الافغان مذاکرات بہت مشکل ہیں ، فریقین کوصبرکامظاہرہ کرناہوگا،افغانیوں کواپنےبہتر مستقبل کیلئےمل کرکام کرناہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغان جنگ میں افغانیوں کےعلاوہ پاکستانی عوام نے بھی بڑی قیمت چکائی ہے، کئی دہائیوں سےپاکستان 40لاکھ مہاجرین کی دیکھ بھال کررہاہے،افغان جنگ سےاسلحہ اورمنشیات پاکستان میں آئی،افغان جنگ سےپاکستانی معیشت پربھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔
عمران خان نے مزیدکہا کہ پاکستان میں پائیدارامن افغان امن واستحکام سےمشروط ہے،افغانستان میں امن واستحکام طاقت سےقائم نہیں کیاجاسکتا،افغانوں پرمشتمل مفاہمتی عمل کےذریعےافغانستان میں دیرپاامن ممکن ہے۔
