رمیش کمارکا بھارت سےسانحہ جودھپور کی شفاف تحقیقات کرنیکامطالبہ

پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے شہر جودھپور میں گیارہ پاکستانی ہندئوں کے قتل کا معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں اٹھانے میں مدد دے۔
شائع 28 ستمبر 2020 01:16am

قومی اسمبلی کے رکن اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے شہر جودھپور میں گیارہ پاکستانی ہندئوں کے قتل کا معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں اٹھانے میں مدد دے۔

اتوار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ پاکستانی ہندو برادری بھارت کی ہندواکثریتی ریاست سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ جودھپور سانحے کی شفاف تحقیقات کرے اور اس حوالے سے ہونے والی پیشرفت کے بارے میں پاکستان کو آگاہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندو کونسل نے گزشتہ روز دھرنا ختم کردیاتاکہ دارالحکومت کی سڑکیں بلاک نہ ہوں اور عوام کو پریشانی سے بچایا جاسکے۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء کی قرارداد کی ایک نقل بھارتی ہائی کمیشن کی دیوار پر بھی چسپاں کی گئی تاکہ دیگر سفارتکار بھی اس کو دیکھ سکیں۔

انہوں نے کہاکہ قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی وسیع کوریج سے اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملی۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ دوسروں پر الزامات لگانا بند کرے اور خطے کی خوشحالی اور ترقی کیلئے کام کرے۔

انہوں نے کہا کہ شہریت ایکٹ لاگو کرنے کے بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات اور آئینی دفعات کا خاتمہ انسانیت کی خدمت نہیں۔

انہوں نے مقتول پاکستانیوں کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کیلئے تمام ممکنہ کوششوں کا عزم ظاہر کیا۔

بدقسمت خاندانوں کی ایک خاتون Shrimati Mukhi نے اس موقع پر کہا کہ بھارتی حکومت نے مقتولین کے دیگر عزیز و اقارب کو لاشیں دیکھنے کی اجازت تک نہیں دی۔

انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے اہل خانہ نے خودکشی کی تو انہیں اس کا ثبوت فراہم کیا جائے۔

Shrimti Mukhi نے کہا کہ وہ انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھیں گی۔

ریڈیو پاکستان

Read Comments