سپریم کورٹ: ڈینئل پرل قتل کیس،سندھ حکومت کی اپیل سماعت کیلئے ‏منظور

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ...
شائع 28 ستمبر 2020 02:44pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت کی اپیل سماعت کیلئے ‏منظورکرتےہوئے فریقین کونوٹسزجاری کردیئےاورسندھ حکومت کوملزمان کی رہائی ‏سے روک دیا ۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کی اپیل پر سماعت کی۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ مفروضوں پر بریت کے فیصلے کو کالعدم قرارنہیں دیں گے ،کیس کی کڑیاں جوڑنی ہیں، ایک کڑی بھی ٹوٹنے پر کیس ختم ہو جائے گا ۔

سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ڈینئل پرل اور ملزم عمرشیخ کی ملاقات ،پھر اغواء اور قتل سمیت مقدمے کے مختلف پہلوں پر دلائل دیئے تو جسٹس یحیی آفریدی نے پوچھا کہ سازش کہاں ہوئی ،ثبوت فراہم کریں ۔

فاروق ایچ نائیک نے عمرشیخ اور ڈینئل پرل کی ملاقات کا حوالہ دیا تو جسٹس یحی بولے کہ جواب سے ظاہر ہورہا ہے کہ سازش سے متعلق آپکے پاس کوئی جواب نہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے تصدیق کی کہ پہلے اغواء برائے تاوان کی سازش تھی قتل کی نہیں۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ سازش، تاوان اوردیگر الزامات میں ملزمان بری ہوئے، لگتا ہے صرف اغواء کے جرم میں ہائیکورٹ نے سزا دیکر حجت تمام کی، ڈینیل پرل کے اہلخانہ کیساتھ ہمدردی ہے لیکن فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔

سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیلیں ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے عملدرآمد سے روک دیا ۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ مرکزی ملزم عمر شیخ کا نام ای سی ایل پر ڈال دیتے ہیں،عمر شیخ کوعدالت پیش ہونےکاپابندکردیتےہیں،ملزمان کو آئندہ ہفتے تک رہا نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے ملزمان کی بریت کے حکم معطلی کی درخواست پرفریقین ‏کونوٹسزجاری کرتے ہوئے سماعت ‏بدھ تک ملتوی کردی۔

Read Comments