شہباز شریف کی گرفتاری، تنظیم کی قیادت مریم نواز کے سپرد

لیگی قائد میاں نواز شریف نے اعلان کردیا کہ شہباز شریف کی غیر...
شائع 28 ستمبر 2020 07:07pm

لیگی قائد میاں نواز شریف نے اعلان کردیا کہ شہباز شریف کی غیر موجودگی میں مریم نواز قیادت کریں گی ۔

پارٹی قیادت کا آن لائن اجلاس بھی طلب کرلیا ۔اجلاس میں شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کے لائحہ عمل پر غور ہوگا ۔

ذرائع کے مطابق ن لیگ کا ایڈوائرزی بورڈ پارٹی کے معاملات چلائے گا۔

لاہورہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف کی عبوری ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب نے شہبازشریف کو گرفتار کرلیا۔

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 3مرتبہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب رہے،انہوں نے تنخواہ، ٹی اے ،ڈی اے یا دیگر مراعات وصول نہیں کیں ۔

دلیل میں ان کا کہنا تھا کہ مختلف منصوبوں میں ایک ہزار ارب روپے پاکستان کے بچائے،ایسا شخص کروڑوں روپے کی کرپشن کیوں کرے گا،پتہ نہیں یہ کیس کیوں بنایا گیا،اب تک جتنے شریک ملزمان کے بیانات ریکارڈ ہوئے اس میں ان کے مؤکل کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوسکا۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ کسی جائیداد کو نیب حکام نے وزٹ کرکے چیک نہیں کیا،ٹائی کوٹ پہن کر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہیں،عدالت اپنی تسلی کیلئے لوکل کمیشن مقرر کرکے جائیداد کا معائنہ کراسکتی ہے۔

عدالت سے اجازت لے کر شہبازشریف نے اپنے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کو کروڑوں روپے کی زرعی اراضی تحفہ میں دی۔بیوی نے 70 لاکھ کا تحفہ دیا ،جسے قانونی طریقہ سے حاصل کیا،پونے چھ ارب روپے ملک واپسی کے بعد فیکٹری بیچ کر ادا کئے ،حکومت بلدیاتی انتخابات کیلئے گرفتار کرکے زبان بندی کرنا چاہتی ہے۔

شہبازشریف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب پراسیکیوٹر فیصل رضا بخاری نے عدالت کو بتایا کہ تمام فیصلے جو پیش کئے گے وہ گرفتاری کے بعد کے ہیں،شہباز شریف کی حد تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں،وجوہات بتاؤں گا کہ حراست کیوں چاہیئے۔

Read Comments