منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف 14روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کےحوالے
لاہور :احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیاجبکہ ان کی بیٹی جویریہ کی مستقل حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی۔
لاہور کی احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اوران کے اہل خانہ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی، پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے۔
شہباز شریف نے عدالت میں اپنے حق میں مقدمہ خود لڑتے ہوئے بیان دیا کہا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی وجہ سے انصاف نہیں ہو رہا، جب والد کی جانب سے اثاثے تقسیم ہوئے، اس وقت وہ جلاوطن تھے،جب ملک واپس آئے تو سو فیصد اثاثے بچوں کو منتقل کر دیئے، ان کمپنیوں میں ڈائریکٹر تھا نہ ہی کوئی پارٹنر ۔
شہبازشریف نے بتایا کہ اپنے خاندان کی فیکٹریاں ہونے کے باوجود انہوں نے گنے پر سبسڈی نہیں دی،2017 میں چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی مگر پندرہ روپے سبسڈی نہیں دی،ایتھانول پر 2روپے فی لٹر ایکسائز ڈیوٹی لگائی تھی،پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اس ڈیوٹی کو واپس لے لیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آپ نے جو حقائق پیش کئے، اس پر نیب سے تفتیش کرواتے ہیں، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے ساری تفتیش کر لی ہے،یہ بس گھنے بنے ہوئے ہیں،جس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن نے کیوں ریمانڈ لینا ہے؟ کیا تفتیش مکمل نہیں ہو گئی؟ ۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف سے اہم معاملات پر تفتیش باقی ہے، کل شہباز شریف سے جو سوالات پوچھے انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے ادوار میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کا کتابچہ پیش کیا۔
عدالت نے نیب تفتیشی کو کہا کہ وہ اس کتابچے کو ریکارڈ کا حصہ بنائے اور اس پر تفتیش سے آگاہ کرے۔
احتساب عدالت نے شہباز شریف کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کرتے ہوئے دوبارہ 13 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
