نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل 31 اکتوبر سے مستقل طور پربند کرنےکااعلان
نیویارک میں موجود پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل 31اکتوبر سے مستقل طور پربند کرنے کا اعلان کردیا گیا،انتظامیہ کے مطابق حالیہ مالی مشکلات کی وجہ سے ہوٹل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا،روز ویلٹ ہوٹل کی لیز پی آئی اے نے 70کی دہائی میں حاصل کی تھی جبکہ اسے 1999میں باقاعدہ خریدلیا تھا۔
نیویارک کے اقتصادی مرکز میں واقعہ روز ویلٹ ہوٹل مستقل بنیادوں پر بند کرنے کا اعلان کردیا گیا،پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کو بند کرنے کا اعلان ہوٹل کی ویب سائٹ پر کیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق حالیہ معاشی حالات میں ہوٹل کو چلانا ممکن نہیں رہا،اس لئے ہوٹل کو بند کیا جارہا ہے۔
پی آئی اے اینویسٹمنٹ لمیٹڈ نے روز ویلٹ ہوٹل کی لیز 1979میں حاصل کی اور 1999میں ساڑھے 36ملین ڈالر کے عوض پراپرٹی خریدلی۔
رواں سال 2جولائی کو کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے روزویلٹ ہوٹل کو بیچنے کے بجائے جوائنٹ وینچر کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا،جس کیلئے نجکاری کمیشن کو مالیاتی مشیر مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے متعلق وزیر نجکاری کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ فیصلہ وزارت ایوی ایشن ڈویژن کی سفارشات کی روشنی پر کیا گیا تھا۔
پانچ جولائی کو معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا تھا کہ روزویلٹ ہوٹل نے پچھلے سال 15لاکھ ڈالر کا نقصان دیا، اس ہوٹل کو نقصان میں کیوں چلائیں؟۔
پندرہ جولائی کو ایم ڈی پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں بتایا تھا کہ امریکی صدر پی آئی اے کا ہوٹل روزویلٹ خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ہم ہوٹل روزویلٹ کی نجکاری نہیں چاہتے بلکہ شراکت داری کے خواہشمند ہیں،گزشتہ 20سال میں روزویلٹ نے 45لاکھ ڈالر کا منافع کمایا۔
بیس جولائی کو وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی ہوٹل کو بیچنے کی خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ہوٹل کی تزئین و آرائش سے متعلق بات ہورہی ہے۔
تقریباً سو سال پرانے اس تاریخی ہوٹل کو اس سے پہلے تزئین و آرائش کیلئے بند کیا جاچکا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہوٹل کو معاشی حالات کی خرابی کے پیش نظر بند کیا جارہا ہے۔
گزشتہ 20سال سے منافع کمانے والی ہوٹل اچانک گزشتہ سال خسارے میں کیسے چلے گئی،یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں، امید ہی کی جاسکتی ہے کہ معاشی حالات ٹھیک ہوں اور ہوٹل دوبارہ چل سکے، کہیں ایسا نہ ہو کہ معاشی حالات کا بہانہ بنا کر ہوٹل کو بیچنے کی آنے والی خبروں کو حقیقت کا رنگ دے دیا جائے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پی آئی اے ہی نہیں پاکستان کے لیے بھی کوئی اچھی خبر نہ ہوگی۔
