بغاوت کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کی 21 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور
گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے بغاوت کیس میں کیپٹن (ر)صفدرکی 21اکتوبرتک عبوری ضمانت منظور کرلی۔
مقامی عدالت نے کیپٹن (ر) صفدرکو 50ہزارروپےکےمچلکےجمع کرانےکاحکم دے دیا۔
کیپٹن (ر)صفدر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین اور مقدس پارلیمنٹ کو بچانے کیلئے باہر نکل رہے ہیں،قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب لیڈر آگے آتا ہے اورہمارالیڈرآگےآگیاہے اوراگرتحریک کو ضرورت پڑی تو میاں نواز شریف آپرین( کے بعد پاکستان آئیں گے اوراگر وہ نہیں آتےتوبھی ان کے سپاہی آئی اورپارلیٹنن کے تحفظ کی بھرپور جنگ لڑیں گے۔
کیپٹن صدر نے کہاکہ چیئرمین نیب میں ایک عیب ہے وہ سر سے پاؤں تک چومتا ہے اور کرسی پر بیٹھ کر گھومتا ہے ،مجھےچیئرمین نیب جاویداقبال کی دماغی صحت پر شک ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنماء نے مزید کہا کہ ایک نااہل شخص کو نیب کا چیئرمین لگایا گیا جس کی وجہ سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز اندر ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کیپٹن (ر)صفدر نے کہا کہ عمران خان نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں،وزیراعظم چیئرمین نیب کو توسیع دینا چاہتے ہیں لینے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ایکسٹنشن نے ہی ملک کو اس حال تک پہنچایا ہے۔
کیپٹن (ر)صفدر نے مزید کہا کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو وزیراعظم نہیں مانتےکیونکہ عمران خان ووٹ کی طاقت سے نہیں دھوکےسے آئے۔
لیگی رہنماء کیپٹن صفدر کورکمانڈرکے گھرکے باہر احتجاج کرنے کے بیان سے منحرف ہوگئے اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ جس شہر میں گرفتاری ہوگی ،اس کے کورکمانڈرکےگھرکےباہراحتجاج کریں گے۔
کیپٹن صدر کا کہنا تھا کہ ولی خان اور باچاخان نے کہا تھا کہ جب عوام کی تحریک پنجاب سے اٹھے گی وہ کامیاب ہوگی اب ہم مہنگائی ،بےروزگاری اور آئین کی بالادستی کیلئے تحریک چلارہے ہیں کیونکہ اس حکومت نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔
گوجرانوالہ جلسے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کیپٹن (ر)صفدر نے کہا کہ انتظامیہ کو جناح اسٹیڈیم کیلئے درخواست دیں گے اور ہمیں آئین حق دیتا ہے کہ ہم اسٹیڈیم کے اندر جلسہ کریں اور اگرجلسےکی اجازت نہ دی گئی تو جس جگہ عوام کھڑی ہوگی وہاں جلسہ ہوجائے گااورجو اس تحریک کےسامنےآئےگا،عوام کا سمندراس کو بحا کر لے جائےگا۔
