توہین آمیزخاکوں کےذریعے اسلام پر حملےلاعلمی کا نتیجہ ہیں،وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون کو دنیا کو تقسیم کرنے کے بجائے معاملات کو حل کرنا چاہیئےتھا،دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھےگی، توہین آمیزخاکوں کے ذریعے اسلام پر حملے لاعلمی کا نتیجہ ہیں ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک لیڈرکی پہچان یہ ہےکہ وہ لوگوں کومتحدکرتاہےجیسے نیلسن منڈیلا نےلوگوں کوتقسیم کرنےکی بجائےمتحدکیا۔
وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ فرانسیسی صدرمیکرون کوانتہاپسندوں کوموقع نہیں دینا چاہیئے تھا ،صدرمیکرون کودنیاکوتقسیم کرنےکے بجائےمعاملات کوحل کرنا چاہیئے تھالیکن انہوں نے مزید پولرائزیشن اور احساس محرومی پیدا کرنے کی کوشش کی،دنیا کوتقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھےگی۔
Hallmark of a leader is he unites human beings, as Mandela did, rather than dividing them. This is a time when Pres Macron could have put healing touch & denied space to extremists rather than creating further polarisation & marginalisation that inevitably leads to radicalisation
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 25, 2020
عمران خان نے کہا کہ صدر میکرون انتہا پسندوں کا راستہ روک کر مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکتاتھا لیکن بدقسمتی سےانہوں نے دہشتگردوں کی بجائے اسلام پر حملہ کرکے اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کی ،فرانس کے صدر نے توہین آمیز کارٹون کی نمائش سے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹارگٹ کیا اور جان بوجھ کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی، اس قسم کی چیزیں بنیاد پرستی اور انتہاپسندی کا باعث بنتی ہیں۔
through encouraging the display of blasphemous cartoons targeting Islam & our Prophet PBUH. By attacking Islam, clearly without having any understanding of it, President Macron has attacked & hurt the sentiments of millions of Muslims in Europe & across the world.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 25, 2020
وزیراعظم نے مزید کا کہنا تھا کہ توہین آمیزخاکوں کےذریعےاسلام پرحملےلاعلمی کانتیجہ ہیں،فرانسیسی صدرمیکرون نےدین کو سمجھے بغیر یورپ اور پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا،جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلاموفوبیا، انتہاپسندی کو فروغ دیں گے۔
The last thing the world wants or needs is further polarisation. Public statements based on ignorance will create more hate, Islamophobia & space for extremists.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 25, 2020
