'گندم کی کونسی لابی کوتحفظ فراہم کیا جا رہا ہے یہ وقت بتائے گا'

آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے مطابق پولٹری ایسوسی ایشن کو2 لاکھ ٹن...
شائع 28 اکتوبر 2020 09:45pm

آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے مطابق پولٹری ایسوسی ایشن کو2 لاکھ ٹن گندم مارکیٹ سے کم ریٹ پرفروخت کرنے کے باعث گندم بحران شدید ہوا ۔اس بحران کو ٹالنے کےلئےاقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی۔

آڈیٹرجنرل آف پاکستان کے مطابق پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کو2 لاکھ ٹن گندم مارکیٹ سے کم ریٹ پرفروخت کی گئی۔گندم کا مارکیٹ ریٹ 39 ہزار 79 روپے فی ٹن تھا جبکہ پولٹری ایسوسی ایشن کو فی ٹن گندم 32 ہزار 500 روپے یعنی فی ٹن 6 ہزار 579 روپے سستی بیچ دی گئی۔

اس عمل سےقومی خزانے کو تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔اس انکشاف کے بعداقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی بعد میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلے کی توثیق کی۔

قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت 1600 روپے فی من مقررکی گئی ہے جبکہ مارکیٹ میں اسوقت 2400 قیمت ہے ۔گندم کی درآمد بھی اسی ریٹ پرکی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ گندم کی فی من قیمت2000 نہ کی گئی تواگلے سال گندم ناپید ہوجائیگی ۔ حکومت کی کسان مار پالیسی ہے۔گندم کی کونسی لابی کوتحفظ فراہم کیا جا رہا یہ وقت بتائے گا۔

خواجہ آصف نے اسمبلی فلورپرکہا کہ حکومت اپنی اے ٹی ایم کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے۔

Read Comments