سپریم کورٹ نے سزائے موت کے ملزم کو 18 سال بعد بری کر دیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت کے ملزم سجاد حسین...
شائع 29 اکتوبر 2020 12:51pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت کے ملزم سجاد حسین کو 18 سال بعد بری کر دیا۔

جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ملزم سجاد حسین درخواست پر سماعت کی ۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ملزم سجاد حسین پر کلاشنکوف سے فائر کرکے ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا لیکن ملزم سے کلاشنکوف بھی برآمد نہیں ہوئی۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے ملزم سجاد حسین کو سزائے موت سنائی تھی۔

دورانِ سماعت جسٹس منظور ملک نے پوچھا کہ یہ واقعہ کتنے گھنٹے کے بعد رپورٹ ہوا؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ واقعہ 56 گھنٹے کے بعد رپورٹ ہوا۔

جسٹس منظور ملک نے ریمارکس دیئے کہ حیرت کی بات ہے مدعی تھانے گیا پھر بھی بروقت رپورٹ درج نہیں ہوئی، اس بندے کا کیا قصور ہے کہ اس نے اتنی بڑی سزا کاٹ لی؟۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے سزائے موت کے ملزم سجاد حسین کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

Read Comments