فردوس عاشق اعوان معاون اطلاعات تعینات، لیکن پچھلے الزامات کا کیا بنا؟
سینئر صحافی نے سوال کیا ہے کہ حکومت سے پوچھنا یہ تھا کہ فردوس عاشق اعوان پر لگے الزامات کا کیا بنا؟
سینئر صحافی ارشاد بھٹی کی جانب سے وزیراعظم کی سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی پنجاب کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے سینئر صحافی ارشاد بھٹی کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔
ارشاد بھٹی نے حکومت سے ناصرف ایک تلخ سوال کیا، بلکہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ 'فردوس عاشق اعوان پر اشتہارات میں کمیشن، سرکاری گاڑیوں کا استعمال، سرکاری ملازمین کو گھر میں رکھنے کے الزامات عائد کر کے انہیں وفاقی کابینہ سے نکالا گیا تھا۔ وفاق میں الزامات، صوبے میں عہدے، واہ رے تبدیلی سرکار۔'
انہوں نے مزدی کہا کہ 'اللہ کی شان، چوہان صاحب کو علم ہی نہ تھاکہ ان سےایک وزارت لے لی گئی حالانکہ آپ وزیرِ اطلاعات تھے، ڈاکٹرصاحبہ ٹوئٹ دیکھا کہ”یہ میرےقائد عمران خان کا مجھ پر اعتماد ہے” حالانکہ پچھلی بارفارغ ہوتے وقت لاکھ کوشش کے باوجود قائد انسے نہ ملے اور انہیں بڑی مشکل سے قائد حکومت کیخلاف پریس کا نفرنس سے روکا گیا۔'
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی فردوس عاشق اعوان کو پنجاب میں معاون خصوصی اطلاعات کا عہدہ دیے جانے پر حکومت تنقید کی زد میں ہے۔
لوگوں نے سوال کیا ہے کہ اگر فردوس عاشق اعوان وفاقی کابینہ کا حصہ ہوتے ہوئے کسی غلط کام میں لوث تھیں، تو کیسے انہیں پنجاب کابینہ کا حصہ بنا دیا گیا؟
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔ جس کے تحت وزیراعظم کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو پنجاب میں اطلاعات کی اہم ذمہ داری سونپتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی اطلاعات مقرر کردیا گیا ہے۔ ب
تایا گیا ہے کہ وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان سے ان کا قلمدان واپس لے لیا گیا ہے۔ فیاض چوہان صرف محکمہ کالونیز کے وزیر ہوں گے۔ پنجاب کے 2 وزراء کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، ان میں مہر محمد اسلم کو آپریٹو اور زوار حسین کے پاس جیل خانہ جات کی وزارت تھی۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اس قبل وفاق میں معاون خصوصی اطلاعات رہ چکی ہیں۔ وزیراعظم نے ان کو ہٹا کر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو تعینات کردیا تھا۔ جب فردوس عاشق اعوان کو عہدے سے ہٹایا گیا تو ان پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
دوسری جانب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپنی ذمہ داری بہترین انداز میں نبھانے کی کوشش کروں گی۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مجھ پر اعتماد کرنے پرشکریہ ادا کرتی ہوں۔
سابق وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اپنی وزارت تبدیل ہونے سے بے خبر نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ابھی تک نہیں علم کہ مجھ سے اطلاعات کی وزارت واپس لے لی گئی ہے۔مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ کیوں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔