سپریم کورٹ:فراڈ کرنے والے اسکول کلرک کی ملازمت بحالی کی درخواست خارج
اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے فراڈ کرنے والے اسکول کلرک کی ملازمت بحالی کی درخواست خارج کردی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے فراڈ کرنے والے اسکول کلرک کی ملازمت بحالی کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار رانا محمد شعبان نے عدالت میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت غریب ہوں وکیل بھی نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہاتھ پیچھے کریں عدالت کے سامنے ہاتھ نہ جوڑیں،آپ نے 22 جعلی تنخواہیں نکلوائیں،آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ 4 لاکھ 46 ہزار 300روپے اور 50 پیسے جرمانہ جمع کرائیں۔
درخواست گزارنے کہا کہ میں نے کوئی فراڈ کیا ہی نہیں تو جرمانہ کیسے دوں؟،میرا کام صرف ڈاک آگے پہنچانا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے فراڈ کرنے والے اسکول کلرک کی ملازمت بحالی کی درخواست خارج کردی۔
یاد رہے کہ رانا محمد شعبان ہائیر سیکنڈری اسکول چکنمبر 13ننکانہ میں کلرک تھا، فراڈ کرنے پر رانا محمد شعبان کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا جبکہ رانا محمد شعبان نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔
