سپریم کورٹ کامیڈیکل کالجز کے فارن طلبہ کو طے شدہ فیسیں جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کے فارن طلبہ کو طے شدہ...
شائع 05 نومبر 2020 02:16pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کے فارن طلبہ کو طے شدہ فیسیں جمع کرانے کا حکم دے دیا اورفیسیں جمع نہ کروانے والوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے میڈیکل کالجوں میں غیر ملکی طلبا کی فیسوں سے متعلق کیس پرسماعت کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ2015 سے پہلے طلبہ کو سیلف فنانس پر داخلے دیئے جاتے تھے جس کے بعد میرٹ کی پالیسی اپنائی گئی ، 2015 سے پہلے غیر ملکی اور اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سیلف فنانسنگ کے قواعد بھی یکساں تھے طلبا نے بیان حلفی جمع کروائے لیکن فیس نہیں ۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ طلبہ نے تعلیم مکمل کرلی لیکن فیسیں جمع کیوں نہیں کرائی؟ ۔وکیل طلبا نے بتایا کہ فارن اسٹوڈنٹس سے ڈالروں میں فیسیں جمع کرانے کا کہا جاتا ہے ، ڈالر ایکسچینج ریٹ میں بہت زیادہ فرق ہے۔

وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ ایچ ای سی کی جانب سے میڈیکل کالجوں کو طلباء کا کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاتا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہرطرف صرف ڈرامہ ہی ڈرامہ ہے، پہلے آپ سہولت دیتے ہیں اور بعد میں کلیم مانگتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کے فارن طلبہ کو داخلے کے وقت طے شدہ فیسیں جمع کرانے کا حکم دے دیا اورفیسیں جمع نہ کروانے والوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

عدالت نے پنجاب بھرکے میڈیکل کالجوں سے متاثر ہونے والے طلبہ کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

Read Comments