میں واقعی شرمندہ ہوں، شاہین صہبائی
سیاسی پارٹیاں عوامی مسائل کے لیے کم اور ذاتی مسائل حل کروانے، کیسز ختم کروانے اور کرسی ہتھیانے کے ایجنڈے پر زیادہ متفق نظر آتی ہیں۔
ماضی میں بھی "میثاق جمہوریت" کے نام پر ایسے ہی سیاسی جماعتیں اکٹھا ہوئی تھیں، مگر اس بار ہونے والا گٹھ جوڑ تھوڑا عجیب ہے، اسی لیے سینئر صحافی شاہین صہبائی نے بھی اس میثاق جمہوریت کو ریجیکٹ کر دیا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار شاہین صہبائی کو بے نظیر بھٹو کے لیے میثاق جمہوریت کا لفظ تجویز کرنے پر شرمندگی ہورہی ہے کیونکہ ایک زبردست معاہدے کو آج لوٹ مار اور کمائی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔
شاہین صہبائی کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ”میں واقعی شرمندہ ہوں: میثاق جمہوریت کا نام میں نے ہی بینظیر صاحبہ کو تجویز کیا تھا مگر آج میں شرمندہ ہوں کہ ایک زبردست معاہدے کو لوٹ مار اور کمائی کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ آج ایک نئے میثاق کی بات ہو رہی ہے مگر آج میثاق ایمانداری ہونا چاہیے۔ چوری اور لوٹ مار بند کرنے کا میثاق۔"
اپنے دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے بلاول کے اثاثوں پر سوال اٹھتے ہوئے کہا " بلاول کے اثاثے : فرزند زرداری نے آج تک بغیر کسی کام اور نوکری کے دو ارب سے زیادہ کے اثاثے بنا لئے : کیا یہ سب چوری کا مال ہے اور کیا وہ بتا سکتے ہیں اتنے پیسے کس طرح جمع ہوے ہیں - اگر انکے ابّا پھنس گئے تو کیا بلاول چھوٹ جائینگے - کوئی رسید کوئی ثبوت تو لاؤ - کتنا ٹیکس دیا۔"
شاہین صہبائی کا اپنے ایک اور ٹویٹ میں اپوزیشن کی جانب سے شروع کی گئی حکومت گراؤ تحریک پی ڈی ایم پر تنقید کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ”خان کو ہٹاؤ تحریک : ٹھیک ہے سب اس بات پر متفق ہیں مگر کیسے ہٹاؤ اور کیوں ہٹاؤ۔ سب سے بڑا سوال خان کی جگہ کسے لاؤ اور کون لائے۔ اگر اس بیکار کی لڑائی میں عمران خان کی جگہ "جنرل “ عمران خان آ کر بیٹھ گئے تو کیا ہوگا؟“
یوں انہوں نے دوسرے ٹویٹ سے پی ڈی ایم کی تحریک کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ حکومت کو گھر بھیجنے کی بات تو کر رہے ہیں مگر عمران خان کی جگہ آئے گا کون اس بات کو تو ابھی تک فیصلہ ہی نہیں ہوا اور گیارہ سیاسی پارٹیاں اکٹھے ہو کر حکومت کے خلاف جلسے جلوس کرنے چل پڑے ہیں۔