حویلیاں طیارہ حادثے کی 4 سال بعد تحقیقات مکمل، رپورٹ جاری
کراچی :چارسال قبل حویلیاں میں ہونے والے پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ،رپورٹ میں اے ٹی آر طیارے کی پاور ٹربائن کا اسٹیج ون بلیڈ اور او ایس جی پن ٹوٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔
پی آئی اے کے طیارے کی حویلیاں حادثے کی4سال بعد تحقیقات مکمل ہوگئی، اے اے آئی بی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ نے رپورٹ جاری کردی۔
تحقیقاتی رپورٹ سول ایوی ایشن نے سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرادی۔ رپورٹ میں بتایا گیا طیارے کا ایک انجن بند ہوا اور دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا ، شبہ ہے اے ٹی آر طیارے کےانجن کا بلیڈ پشاور سے چترال جاتے ہوئےٹوٹا، پھر بھی اسے اگلی پرواز کیلئے چترال سے اسلام آباد روانہ کردیا گیا۔
سات دسمبر 2016 کو ااسلام آباد جاتے ہوئے حویلیاں کے مقام پر خوفناک حادثہ ہوا جس میں معروف مذہبی اسکالرجنیدجمشید سمیت 48 افراد شہید ہوئے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اےٹی آر طیارے کے انجن 10ہزار گھنٹے مکمل ہونے پر اوورہال نہیں کیا گیا ،انجن کی پاور ٹربائن کا اسٹیج ون بلیڈ یعنی پی ٹی ون بلیڈ ٹوٹ کراپنی جگہ سے ہٹا جس سے پاور ٹربائن شافٹ کی گردش متاثر ہوئی اور او ایس جی پن بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا انجن آئل میں ایندھن کی آلودگی شامل ہونے کے باعث دوران پروازخرابی شروع ہوئی، جس نے ٹوٹی اوایس جی پن اور بلیڈ کے ساتھ مل کرپروپیلرکی رفتار کم کردی اور پروپیلر الیکٹرانک کنٹرول میں خرابی پیدا ہوگئی۔
بتایا گیا کہ بدقسمت طیارے کے پائلٹس نے نئی خرابی دیکھی جو پہلے کسی اے ٹی آرطیاروں میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔
یاد رہے کہ بدقسمت پی آئی اے طیارہ حادثے میں معروف اسکالر جنیدجمشید سمیت 47 افراد شہید ہوگئے تھے۔
