لاہور ہائیکورٹ کا ڈی جی نیب سلیم شہزاد کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار
لاہور:چوہدری برادران کیخلاف نیب کی جانب سے 20 سالہ پرانی انکوائری کھولنے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 30 نومبر کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
ڈی جی نیب سلیم شہزاد لاہور ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہوئے، جسٹس صداقت علی خان نے ڈی جی نیب سے استفسار کیا، بتائیں چوہدری برادران کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے اور غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق انکوائری کب شروع ہوئی؟ ۔
ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے کہا کہ 20 سال قبل چوہدری برادران کیخلاف الزام پر کام شروع کیا گیا۔
جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ یہ کیا آپ نے کام کام لگا رکھا ہے، آپ کو پتہ نہیں عدالت میں کیسے بات کرتے ہیں، کیا یہ کنسٹرکشن کا کام ہے، یہ لفظ توہین کے زمرہ میں آتا ہے،جس پرڈی جی نیب سلیم شہزاد نے عدالت سے معذرت کرلی۔
جسٹس شہرام سرور نے استفسار کیا کہ آپ کب عہدہ پر فائز ہوئے،جس پر سلیم شہزاد نے کہا کہ میں 2017 میں ڈی جی نیب کے عہدہ پر فائز ہوا۔
جسٹس شہرام سرور نے استفسار کیا کہ آپ نے چوہدری برادران کیخلاف انکوائری کا معاملہ کب دیکھا ؟ جس پر ڈی جی نیب سلیم شہزاد عدالت میں کوئی جواب نہ دے سکے۔
عدالت نے 30 نومبر کو ڈی جی نیب سلیم شہزاد کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
