Aaj Logo

شائع 27 فروری 2021 08:59am

جمال خاشقجی کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قتل کروایا، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے تہلکہ خیز امریکی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قتل کروایا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان خاشقجی کو سعودی عرب کیلئے خطرہ سمجھتے تھے، محمد بن سلمان کا تحفظ کرنے والی ریپڈ انٹروینشن فورس کے سات ارکان اس ٹیم کا حصہ تھے جو خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں، یہ فورس محمد بن سلمان کی اجازت کے بغیر خاشقجی کیخلاف ایکشن نہیں کرسکتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے ممکنہ طور پر قتل کی منظوری دی، ولی عہد کے پاس 2017 سے فیصلہ سازی کے اختیارات ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ محمد بن سلمان سلطنت کی سیکیورٹی پر مکمل اختیار رکھتے ہیں، محمدبن سلمان کاسعودی انٹیلی جنس اداروں پر بھی مکمل کنٹرول ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2 اکتوبر 2018 کو 15 رکنی سعودی ٹیم استنبول پہنچی، اس ٹیم میں محمد بن سلمان کے7 گارڈز بھی تھے، ان 7 افراد کا تعلق ریپڈ انٹروینشن فورس سے ہے۔ یہ فورس سعودی شاہی گارڈز کی ایک ذیلی فورس ہے۔امریکی رپورٹ میں خاشقجی کے تمام ممکنہ قاتلوں کے نام بھی ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پرامریکی رپورٹ مسترد کردی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی رپورٹ کے مندرجات منفی اور ناقابل قبول ہیں، پیش کردہ رپورٹ غلط معلومات پر مبنی ہے۔

وزارت خارجہ جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ کو بے بنیاد اور حقائق کے برعکس مانتی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جمال خاشقجی کا قتل سنگین جرم ہے۔ یہ سعودی قوانین اور اس کی اقدار کی کھلی خلاف ورزی پر مشتمل ہے۔ سعودی عرب اس گھناؤنے جرم کی مذمت کر چکا ہے۔ سعودی عرب اپنی قیادت، ریاستی بالادستی اور عدالتی خود مختاری کو زک پہنچانے والی ہر بات کو مسترد کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قتل کے واقعے میں ملوث افراد پر جرم ثابت ہوا اور سزائیں سنائی گئیں جن پر جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے کہا سعودی عرب اورامریکا میں شراکت داری باہمتی احترام پرمبنی ہے۔ دفترخارجہ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کی اسٹریٹجک شراکت کا طاقتور ڈھانچہ تشکیل دینے والی یہ مضبوط بنیادیں برقرار رہیں۔

Read Comments