Aaj Logo

شائع 22 اگست 2021 09:13am

افغانستان کے آخری یہودی کا ملک نہ چھوڑںے کا فیصلہ

طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کے "آخری یہودی" زیبلوان سیمنٹو نے ملک چھوڑنے کا اپنا ارادہ ترک کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ جون میں اس نے اسرائیل جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، لیکن اب میں افغانستان چھوڑ کر اور کہیں نہیں جا رہا ہوں۔

افغانستان میں بچے اکلوتے یہودی زیبلوان کا کہنا تھا کہ ان کی بیوی اور بیٹی 23 سال سے اسرائیل میں مقیم ہیں۔ وہ ان سے ملنا چاہتے تھے مگر اب وہ بیرون ملک نہیں جا رہے۔ اگر وہ بھی چلے گئے تو افغانستان میں یہودی عبادت کو سنھبالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ "ڈبلیو آئی او این" کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر میں افغانستان سے چلا گیا تو یہودی عبادت گاہ کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان کا اشارہ افغانستان میں ایک یہودی معبد کی طرف تھا جس کی نگرانی "زیبلوان سیمنٹو" کے پاس ہے۔

اکسٹھ سالہ زیبلوان افغانستان کے صوبہ ہرات میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 20 سال کی عمر میں کابل آگئے جہاں ان کے پاس قالین، زیورات اور دستکاری کی دکان تھی۔ وہ عبرانی نہیں بولتے۔ 2005 میں ایک دوسرے یہودی اسحاق لیوی کی موت کے بعد وہ افغانستان کے اکلوتے یہودی بن گئے تھے۔

سیمنٹو کا لیوی کے ساتھ مسلسل اختلاف رہتا تھا۔ دونوں میں تورات کتاب کے ایک نسخے کی وجہ سے اختلاف تھا، جو پندرہویں صدی سے بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے اس نسخے کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور دوسرے پر چوری کا الزام لگایا۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے مذکورہ تورات کی کاپی قبضے میں لے کر بلیک مارکیٹ میں فروخت کردی تھی۔ اس نسخے کے چھن جانے نے دونوں یہودیوں کےدرمیان اختلافات ختم کر دیے۔

واضح رہے کہ طالبان کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے منگل کی شام اسرائیلی "کے اےان" نیوز چینل کو یقین دلایا کہ طالبان افغانستان میں اقلیتوں کے حقوق کا احترام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہندو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں۔

Read Comments