Aaj Logo

شائع 25 اگست 2021 03:00pm

سابق برطانوی فوجی کی افغان کے روپ میں افغانستان سے فرار کی کہانی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد عوام کے ساتھ ساتھ ملک میں مقیم غیر ملکیوں کو بھی اپنی جان کی فکر پڑ گئی ہے اور جلد سے جلد کسی بھی طرح ملک چھوڑنے کی فراق میں ہیں۔

یہ کہانی 60 سالہ ریٹائرڈ برطانوی فوجی لائیڈ کامر کے افغانستان سے فرار کی ہے جنہوں نے اپنی جان بچانے کیلئے دفتر خارجہ کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور افغانستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

ڈیلی میل کے مطابق لائیڈ کامر نے 35 سال تک فوج میں خدمات انجام دیں، اور 2013 سے کابل میں نجی شعبے کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

کابل میں طالبان کے کنٹرول کے بعد برطانوی دفترِ خارجہ نے اپنے لوگوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی، لیکن لائیڈ کامر نے ان ہدایات پر کان نہیں دھرے۔

بقول لائیڈ، 'اگر میں دفترِ خارجہ کی بات مانتا تو شاید زندہ نہ رہتا۔'

لائیڈ کامر نے بتایا، 'میں نے قمیص شلوار پہنی، رومال ڈال کر اپنا بھیس بدلا اور حامد کرزئی ایئرپورٹ کا سفر شروع کیا۔ ہوائی اڈے تک پہنچنے کیلئے ہم نے عام ٹیوٹا سیلون استعمال کی، راستے میں ہم نے 3 طالبان چوکیوں کو کراس کیا جہاں ہماری تلاشی بھی لی گئی۔'

انہوں نے کہا، 'میں نے نہیں جانتا تھا کہ اگر طالبان میری اصلیت جان لیتے تو میرے ساتھ کیا سلوک کرتے۔'

سابق فوجی نے کہا کہ انہوں نے ہوٹل پہنچ کر برطانوی فوجی افسران سے رابطہ کیا اور وہاں موجود دیگر برطانوی شہریوں کے ہمراہ ایئرپورٹ کےداخلی دروازے پر پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایئرپورٹ پر سی 17 طیارے پر سوار ہو کر متحدہ عرب امارات پہنچے وہاں سے اسپین اور پھر بالآخر برطانیہ مجھے میرے گھر پہنچایا گیا۔

سابق برطانوی فوجی لائیڈ کامر کا کہنا تھا کہ بحفاظت برطانیہ واپسی کے چار دن بعد انہیں دفتر خارجہ کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں پوچھا گیا کہ 'کیا آپ اب بھی کابل میں ہیں۔'

Read Comments