Aaj Logo

اپ ڈیٹ 27 اگست 2021 01:17pm

کابل ایئرپورٹ پر 2 دھماکے، 13 امریکی فوجیوں سمیت 90 افراد ہلاک

کابل:کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب 2 دھماکوں کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 90افراد ہلاک جبکہ 140سے زائد زخمی ہوگئے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے قریب یکے بعد دیگرے 2زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں اب تک 90 افراد کے ہلاک اور 140 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارےفوکس نیوزنے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ دھماکوں میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مرنے والے 12 اہلکار یو ایس میرینز کے ہیں اور ایک امریکی بحریہ کی میڈیکل ٹیم کا اہلکار ہے، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

یاد رہےکہ فروری 2020 کے بعد سے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ادھر طالبان کا کہنا ہےکہ دھماکے کے نتیجے میں 13 سے 20 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، مرنے والو ں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، دھماکے میں طالبان محافظ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

داعش نےخود کش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

اے ایف پی کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش نےکابل ائیرپورٹ پر خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔داعش کے مطابق اس کے خودکش بمبار نے امریکی فوج کے سیکیورٹی کے حصار کو توڑتے ہوئے 5 میٹر تک اندر جاکر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

جان کربی کی دھماکوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جان کربی کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر ’ایبےگیٹ‘ پر دھماکاہوا ہے، جان کربی نے بیرن ہوٹل کے قریب دوسرے دھماکے کی بھی تصدیق کی ۔

برطانوی خبر ایجنسی نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ یہ دھماکا خودکش ہوسکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کےکمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے کہا ہےکہ کابل ائیرپورٹ پرحملےکےباوجود انخلا آپریشن جاری رہےگا، حملےکےمختلف پہلوؤں کی تحقیقات کررہے ہیں اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان کا ردعمل

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب 2 دھماکوں میں 13 سے 20 افراد ہلاک اور 52 افراد زخمی ہوئے ہیں،امارت اسلامیہ افغانستان کابل ایئرپورٹ پر دھماکے کی مذمت کرتی ہے، دھماکے کے مقام کی سیکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی، امارت اسلامیہ اپنے لوگوں کی حفاظت اور تحفظ پر بھر پور توجہ دے رہی ہے، شر پسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔دھماکا کہاں ہوا؟

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بتایا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دھماکا کابل ائیرپورٹ کے مرکزی دروازے ’ایبے گیٹ‘ پر ہوا جہاں گزشتہ 12 روز سے ہزاروں افراد ملک سے نکلنے کے لیے جمع ہیں۔

ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکا گیٹ کے قریب واقع’بیرن ہوٹل کے پاس ہوا جسے مغربی ممالک انخلا کے آپریشن کیلئے استعمال کررہے تھے۔

دھماکا خودکش اور حملہ آور 2تھے، افغان صحافی کا دعویٰ

افغان صحافی بلال سروری نے ٹوئٹ میں بتایا ہےکہ دھماکے کے وقت ائیرپورٹ سے متصل نالے میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو کہ وہاں اپنے کاغذات کی جانچ پڑتال کرانا چاہ رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اس دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ ایک اور حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔

کابل ائیرپورٹ کے باہر 2 دھماکے ہوئے، ترک وزارت دفاع

ادھرترک خبر ایجنسی نے ترک وزارت دفاع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر 2 دھماکےہوئے ہیں۔

ترک حکام کے مطابق ائیرپورٹ پر موجود ترکی کے فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ائیرپورٹ پر ہزاروں افغان شہری ملک سے فرار ہونے کیلئے جمع ہیں۔

ایئرپورٹ پر امریکی اور برطانوی فوجیوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو کہ اپنے شہریوں اور عملےکا محفوظ انخلا یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

دوسری جانب ائیرپورٹ کے باہر کی سیکیورٹی طالبان نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے۔

Read Comments