'تھر پاکستان کا بجلی پیدا کرنے والا شہر بنتا جارہا ہے'
وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ادوار آمریت میں کراچی کے حالات خراب ہوئے، جنرل ضیا اور مشرف کے دور میں پیدا ہونے والی خرابیوں کے بعد امن و امان کی بہتری کیلئے پیپلزپارٹی کی حکومتوں کو آپریشن کرنا پڑے، انہوں نے دعوٰی کیا کہ تھر پاکستان کا بجلی پیدا کرنے والا شہر بنتا جارہا ہے۔
پنجاب کے 31 رکنی پارلیمنٹری وفد سے ملاقات میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ہمیشہ ایک پُرامن خطہ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا کے مارشل لاء اور اس کے بعد یہاں کے حالات خراب ہوئے جو 1993 تک چلے 1993 میں آپریشن شروع ہوا جس سے حالات میں بہتری آئی پھر مشرف دور میں کراچی بد امنی سے دوچار ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں پولیس کے پہرے میں لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے تھے، پی پی پی نے اقتدار میں آتے ہی پہلے مرحلے میں ہائی ویز کو سیکیور کیا۔
وزیر اعلٰی سندھ نے مزید کہا امن و امان کے حوالے سے کراچی کو 2013 میں دنیا کا چھٹا خراب ترین شہر قرار دیا گیا تھا، آپریشن کے باعث اب کراچی 113 نمبر پر آگیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ تھر میں 1994 میں کوئلے کے ذخائردریافت ہوئے، اب تھر پاکستان کا بجلی کی پیداوار کا شہر بنتا جارہا ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وفد کو تھر کا دورہ کرنے کی دعوت دی، ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں یکساں نصاب پر بیشتر اسباب کی وجہ سے عمل نہیں ہوپارہا، یہاں بچوں کی اکثریت سندھی میڈیم میں پڑھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حقائق کو مدنظر رکھ کر نصاب بنایا جائے گا تو اس پر اتفاق کریں گے، مراد علی شاہ نے تجویز دی کہ نصاب اُس طریقے سے بنایا جائے جس پر عملدرآمد بھی ہوسکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری میں 16 ملین آبادی دکھائی گئی ہے، سروس ڈیلیوری میں شہر میں پانی کی کمی کے حوالے سے بات ہوئی، ہمارے پاس پانی کے 2 ذرائع ہیں،دریائے سندھ اور حب ڈیم، دریاوں میں پانی کم ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حب میں بارشوں سے ہی پانی آتا ہے، اب ہمیں سمندر کےپانی کو میٹھا کرنے کا سسٹم اپنانا ہوگا، اس پر کام کررہے ہیں۔