'ای وی ایم سےالیکشن پراثراندازنہیں ہواجاسکتا'
وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ ای وی ایم کےحوالےسےکچھ چیزیں کلیئرکرناچاہتاہوں، ای وی ایم سےالیکشن پراثراندازنہیں ہواجاسکتا۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتےسےای وی ایم پرقیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کہاجارہاہےکہ حکومت ای وی ایم لانےپربضد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات نہ کی توتنازعات ملک کونقصان پہچناسکتےہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کےبعدتنازعات جمہوریت کیلئےنقصان دہ ہوتےہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیرمتنازع الیکشن کیلئےٹیکنالوجی کی طرف جاناہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کرانااورمشینیں خریدناالیکشن کمیشن کااختیارہے، ہم چاہتےہیں کہ الیکشن متنازع نہ ہوں۔
شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ چاہتےہیں کہ ہارنےوالےبھی نتائج تسلیم کریں، ای وی ایم کاجائزہ لینےکیلئےاپوزیشن کوبھی دعوت دی تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جائزہ لینےکیلئےنہیں آئی،مسترد کردیا، پرانےسسٹم سےفائدہ اٹھانےوالےتبدیلی نہیں چاہتے۔
دوسری جانب پندرہ ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم )کے ذریعے عام انتخابات کرانے کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔
اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے معاملے کی سماعت کی ، شہری طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواست میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ووٹنگ مشین سے انتجابات کیلئے قانون سازی نہیں ہوگی؟
وکیل درخواستگزار نے کہا کہ حکومت الیکشن کمیشن پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہی ہے، یہ درخواست پاکستانی قوم کے بنیادی حقوق کا مسلہ ہے، حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اگر یہی صورتحال ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔
الیکشن کمیشن کے کیا اعتراضات ہیں ان کا ہمیں پتہ ہونا چاہیئے، حکومت الیکشن کمیشن کو سیاسی بنانے کی کوشش کررہی ہے، ملک میں سیاسی اور معاشی بحران پہلے ہی اتنا ہے کہ کسی نئے بحران کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے اعتراضات کہاں پر فائل کے ؟جس پر درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی میں اعتراضات جمع کرائے ہیں۔