ایک قومی نصاب کے گرد تنازعات کی جانچ پر رپورٹ
ایک قومی نصاب لانچ کیا جاچکا ہے ، اور یہ نصاب قومی نصاب کونسل، این سی سی اور وفاقی وزارت تعلیم نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے ،اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے کہ ایک قومی نصاب قوم میں اتحاد لائے گا۔
دا کرنٹ نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم کا موقف ہے ایک نصاب لانا یکساں نصاب تعلیم کو ملک میں رائج کرنا ہے جس کے معنی ہر طالبعلم کیلئے ایک نصاب ہے۔
رپورٹ کے مطابق تاحال یہ نیا پیش کردہ نصاب صرف پنجاب اور خیبر پختونخوا میں رائج کیا گیا ہے اور سندھ میں ابھی اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے اسکولوں نے بھی نصاب میں شامل کتابوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
این سی سی کی ڈائریکٹر مریم چغتائی کا کہنا ہے کہ اس نصاب پر آئندہ پانچ سے چھ سال کے عرصے میں مدارس پر عمل ہونا شروع ہوگا، لیکن اس بات سے خدشات نے جنم لیا ہے کہ اگر حکومت مدارس کے طالبعلموں کو مین اسٹریم میں لانا چاہتی ہے تاکہ اسکے طالبعلم فارغ ہونے کے بعد نوکریاں حاصل کرسکیں ، تویہ تاخیر کیوں؟
ایک قومی نصاب کے گرد تنازعات
پنجاب میں اس نصاب کی کتابوں پر عمل درآمد کے بعد اسکی کتابوں اور نصاب کے کئی تنازعات نے جنم لیا ہے ۔ تنازعات میں بنیادی اس نصاب کی کتابوں میں صنفی نمائندگی میں عدم مساوات ،صنفی سرپرستی کے کردار کو مزید تقویت، نصاب میں خواتین کی ہیروز کی کمی، اور غیر مذہبی کتابوں میں مذہبی مواد کی موجودگی شامل ہے۔
نصاب کی کتابوں میں مواد کی جانچ کے عوامل
ایک آن لائن ویب سائٹ نے اس بات کو جانچنے کیلئے تجزیہ کیا کہ ان تنازعات میں کتنی حقیقت ہے۔ جانچنے کیلئے نصاب کی کتابوں میں خواتین و مردوں کا گھروں میں کردار، انکا پہناوایعنتی کتنی تصاویر میں خواتین نے حجاب پہنا ہے، کتنی میں مشرقی اور مغربی ملبوسات پہنے ہوئے ہیں اسہی طرح کتنی تصاویر میں مردوں نے مغربی اور مشرقی ملبوسات پہنے ہوئے،اور مردو خواتین کی تصاویر کی تعداد کے ذریعے انکی نمائندگی کو جانچا گیا ہے۔ اور اس جانچ کو دو حصے میں تقسیم کیا گیا ہے اور پہلے حصے میں نصاب کی تمام کتابوں میں موجود ڈیٹا کی جانچ کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں انفرادی مضمون کے ڈیٹا کی جانچ کی گئی ہے۔
دا کرنٹ نامی ویب سائٹ نے تنازعات کو حقائق کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ نصاب کی غیر مذہبی کتابوں میں نہ صرف مذہبی مواد کی موجودگی پائی گئی ہے بلکہ ان کتابوں میں زیادہ تر خواتین کو گھریلو دکھایا گیا ہے ، اور مردوں کو زیادہ طاقتور پوزیشنز پر دکھایا گیاہے ، اور کتاب میں ایسی تصاویر بھی شامل ہیں جن میں زیادہ تر خواتین کو مردوں کے موازنے میں کم کردار میں دکھایا گیا ہے۔تاہم بعض تصاویر میں خواتین کو طاقتور کردار میں بھی دکھایا گیا ہے۔جانچ میں پائلٹ، وکیل، ڈاکٹر، پولیس افسر، ٹریفک وارڈن سمیت دیگر اس نوعیت کے کرداروں کو طاقتور پوزیشن رکھنے کے حوالے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایک قومی نصاب کی جانچ سے اخز مثبت اور منفی اثرا ت بھی بیان کیے گئے ہیں ۔
ایک قومی نصاب کےمثبت اور منفی نتائج
ڈاکٹر چغتائی کے مطابق اس نصاب کے مثبت اثرات میں یہ شامل ہے کہ اسکی ڈیزائننگ اور چھپائی مقامی طور پر ہوئی ہے جبکہ یہ کتابیں سستی بھی ہیں۔
اس نصاب کی کتابوں میں آخر میں مفاد عامہ کے پیغامات یعنی سڑک کیسے پار کرنی ہے ، ڈینگی سے متعلق معلومات سمیت دیگر عوامی آگاہی کیلئے درج ہیں ۔
تاہم اسکے منفی نتائج کے مطابق کتابوں میں انفرادی والدین یا پھر انفرادی بچوں کو نہیں دکھایا گیا جن کو انکے گارڈین پال پوستے ہیں ۔ اسہی طرح کتابوں کی کہانیوں میں دونوں والدین کی موجودگی ناگزیر حیثیت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ نصاب میں زیادہ تر خواتین کو گھریلو کام و کاج نمٹاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جوکہ اپنے اہلخانہ کی دیکھ بھال کررہی ہیں جبکہ خواتین زیادہ تر مردوں کے موازنے میں دوسرے درجے پر نظر آرہی ہیں ۔
کتابوں کا اسٹائل کافی پیچیدہ ہے جبکہ کتابوں کے ورق کی کوالٹی اتنی زیادہ خاص نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ طالبعلموں کیلئے کتابیں کشش سے عاری نظر آتی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر این سی سی ڈاکٹر چغتائی کے مطابق ابھی یہ نصاب ارتقائی مرحلے میں ہے اور مستقبل میں والدین اور اسکولوں کی جانب سے ردعمل کو دیکھتے وہئے ان کی تبدیلی کا بھی امکان ہے ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس نصاب کو عملی جامہ پہنانے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ٹیچرز کو ان کتابوں کے پڑھانے کی ٹریننگ حاصل نہیں ہے تاہم اب یہ اسکولوں پر منحصر ہے وہ کیسے اس نصاب کو پڑھاتے ہیں اور اس پرعملدرآمد کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کا ملک بھر میں ایک قومی نصاب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے قدم قابل تعریف ہے تاہم اس حوالے سے اضافی معلومات کی عدم فراہمی اور تربیت کی عدم دستیابی سے خدشہ ہے کہ بالجبر اس نصاب کو عملی جامہ پہنانے سے طالبعلموں اور استادوں کی دشواری میں اضافہ ہوگا۔