قومی اسمبلی : الیکشن ترمیمی بل پر اپوزیشن کا واک آوٹ

الیکشن ترمیمی بل پر اپوزیشن جماعتوں کا ایک بار پھر قومی اسمبلی...
شائع 30 ستمبر 2021 12:55am

الیکشن ترمیمی بل پر اپوزیشن جماعتوں کا ایک بار پھر قومی اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹ کیا۔

اپوزیشن کی غیر موجودگی میں بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظور کرلی گئی۔

قومی اسمبلی نے ہائر ایجوکیشن ترمیمی بل کی بھی اپوزیشن کی غیر موجودگی میں منظوری دے دی۔ متعدد نئے سرکاری بل قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ سوال کا سنجیدہ جواب چاہتا ہوں،تجارتی خسارے میں تاریخی اضافہ ہورہا ہے،حکومت تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ میں کمی اور امپورٹ میں اضافہ ہورہا۔ساڑھے چار ارب روپے کی کورونا ویکسین خریدی گئی۔گزشتہ سالوں میں گندم کی قیمت نہ بڑھانے سے پیداوار میں کمی ہوئی۔ موجودہ حکومت قلت کے باعث گندم امپورٹ کر رہی ہے۔چینی اور گندم کی کمی تیس سال سے حکومت کرنے والوں کی ناکامی ہے۔گھبرانے کی ضرورت نہیں معیشت بہتر ہورہی ہے۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ سعودی عرب ایک بار پھر موخر ادائیگیوں پر پاکستان کو تیل فراہم کرے گا۔سعودی عرب کے ساتھ تیل کی فراہمی کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے۔دو سے تین روز میں تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔

شوکت ترین نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں یہ وزیرخزانہ کہیں نہیں جارہا۔پہلے بھی وزیرخزانہ اور سینیٹر رہ چکا ہوں۔مجھے سینیٹر بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔یہ وزیرخزانہ تو تنخواہ بھی نہیں لیتا۔

اجلاس میں پیپلزپارٹی نے الیکشن ترمیمی بل مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک مخالف کردی۔

اجلاس میں خواجہ آصف نے کہا کہ آج جو کچھ کیا جارہا ہے یہ آئندہ الیکشن کو پہلے سے دھاندلی زدہ کرنے کی کوشش ہے۔سوائے 1970 کے الیکشن کے کوئی ایک الیکشن بھی شفاف نہیں ہوا۔جب ایف بی آر کے سسٹم پر ہزاروں حملے ہورہے ہیں تو ای وی ایم جیسی مشین پر کیسے حملے نہیں ہوں گے۔طے پایا تھا کہ انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی بنے گی۔ہماری حکومت نے اپوزیشن کے بیس اور حکومت کے تیرہ ارکان شامل کرکے پارلیمانی کمیٹی بنائی تھی۔ہماری پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ اصلاحات کی منظوری دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر پارلیمان کو بلڈوز کرکے قانون سازی کی گئی تو ہم سے اس کی مخالفت کریں گے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ خواجہ آصف نے غلط بیانی کی، حقائق کے برعکس بات کی۔انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات میں ای وی ایم اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا ذکر تھا۔آزاد کشمیر الیکشن میں بھی دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔دھاندلی کے ان الزامات کو ختم کرنے کیلئے اے وی ایم لانا چاہتے ہیں،

اس موقعے پر فروغ نسیم نے کہا کہ کیا سمندر پار پاکستانیوں کا ملک پر کوئی حق نہیں۔انتیس ارب ڈالر ملک میں بھجوانے والوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا زیادتی ہوگی۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کسی نے بھی ایک اعتراض نہیں اٹھایا۔ای وی ایم یا کسی اور چیز پر اعتراض اٹھانا الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں۔

قومی اسمبلی نے الیکشن ترمیمی بل مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظور کرلی۔انتخابات دوسری ترمیم کا بل بھی مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظورکرلیا گیا۔

عالمی عدالت انصاف بل بھی مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظور کرلیا گیا۔اینٹی ریپ بل بھی مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظورکرلی گئی۔ قومی اسمبلی اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا ۔

Read Comments