وزیرِاعظم عمران خان سے برطانوی ارکان پارلیمان کی ملاقات
وزیرِاعظم عمران خان سے برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ نے ملاقات کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قانون و انصاف کی بالادستی مکمل طورپرقائم کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں ۔
وزیرِ اعظم عمران خان سے برطانیہ کے ممبرانِ پارلیمنٹ لارڈ واجد خان، ناز شاہ اور محمد یاسین نے ملاقات کی ۔
وفد نے وزیرِ اعظم کو اسلام و فوبیا پر آواز بلند کرنے اور ریاستِ مدینہ کی طرز پر پہلی دفعہ معاشی و سماجی طور پر پس ماندہ طبقات کیلئے سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت کے اقدامات اٹھانے پر خراجِ تحسین پیش کیا ۔
وفد نےآزاد کشمیر میں نو منتخب حکومت کے عوامی فلاح کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی ۔
ملاقات میں موجودہ حکومت کے مختلف اقدامات، عوام دوست پالیسیوں اور مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرنے کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی ۔
ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ نظام حکومت کے حوالے سے ہمارا ماڈل ریاست مدینہ ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلاحی ریاست اور قانون کی بالادستی ریاستِ مدنیہ کے سنہری اصول تھے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون و انصاف کی بالادستی مکمل طور پر قائم کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ معاشرے کی ترقی کےلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کی ترقی پر توجہ دی جائے ۔
اسلام آبادمیں کامیاب پاکستان پرورام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شوکت ترین اوران کی ٹیم کومبارکبادپیش کرتاہوں،کامیاب پاکستان پروگرام74سال پہلےشروع کرناچاہیئےتھا، 74 سال پہلے ہم نے بہت بڑی غلطی یہ کی کہ ہم سمجھتے تھے پہلے پاکستان امیر ہوجائے پھر ہم اسے فلاحی ریاست بنائیں گے، وہ غلط فیصلے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سرپلس ہونے پرپیسہ غریبوں پر لگانے کی سوچ غلط تھی، ریاست مدینہ دنیا کی تاریخ کا سب سے کامیاب ماڈل تھا، مدینے میں پہلے فلاحی ریاست بنائی گئی تھی پھر خوشحالی آئی تھی کیونکہ انسانیت اور انصاف سے اللہ کی برکت آتی ہے، مدینے کی ریاست نے عروج حاصل کیا اور اس وقت کی دو سپر پاورز کو شکست دی۔
عمران خان نے کہا کہ 35 سال پہلے ہندوستان اور چین برابر تھے، آج چین آسمان پر پہنچ گیا لیکن ہندوستان میں چند لوگ امیر اور زیادہ تر غریب ہیں، چین نے مدینے کی ریاست کے نمونے پرعمل کیا اور اپنے نچلے طبقے کو اوپر اٹھایا،پاکستان میں ہم نے اسلامی فلاحی ریاست کے بنیادی اصولوں پر کبھی عمل ہی نہیں کیا اور اشرافیہ کا طبقہ بن گیا، مثلا تعلیمی نظام میں چھوٹے سے طبقے کو انگلش میڈیم پڑھا کر ساری نوکریاں انہیں دلادیں ، باقی عوام اوپر ہی نہیں آسکتے، کسی نے اس نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نچلے طبقے سے اگر کوئی اوپر آبھی جاتا تو وہ بھی اس ایلیٹ سسٹم کا حصہ بن جاتا اور صرف اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی سنوارلیتا۔