بلوچستان :وزیر اعلیٰ جام کمال اور ناراض اراکین میں ٹھن گئی

بلوچستان میں وزیر اعلیٰ جام کمال اور ناراض اراکین میں ٹھن گئی۔...
شائع 07 اکتوبر 2021 12:54am

بلوچستان میں وزیر اعلیٰ جام کمال اور ناراض اراکین میں ٹھن گئی۔ وزیر اعلیٰ جام کمال کو ناراض اراکین نے استعفیٰ کیلئے آج شام چھ بجے تک کی مہلت دی تھی لیکن وزیر اعلیٰ نے مستعفی ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے جبکہ ناراض اراکین نے وزراتوں سے استعفیٰ دینے کا کہا لیکن آج متفقہ فیصلہ نہ کرسکے ۔

وزیراعلیٰ جام کمال سے خفاء اراکین نے منفی جام کمال کے فارمولے پر اٹل ہیں تو وہیں وزیر اعلیٰ جام کمال بھی استعفیٰ نہ دینے پر ڈٹ گئے اور ناراض اراکین کو ایک بارپھر مذکرات کا راستہ اختیار کرنیکی دعوت دی۔

گزشتہ روز ناراض اراکین نے پریس ٹاک کے ذریعے وزیر اعلیٰ جام کمال کو آج شام چھ بجے تک مستعفی ہونے کا وقت دیا تھا اور استعفیٰ نہ آنے کی صورت میں بڑا اعلان کرنے کا کہا لیکن آج میڈیا سے بی این پی عوامی کے ناراض اتحادی اسد بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ناراض اراکین اور اُنکے استعفے اُنکے پاس ہیں ۔

تاہم کچھ ارکان کراچی اور اسلام آباد میں ہیں جنکے آنے کے بعد استعفے دینے یا تحریک عدم اعتماد لانے پر حتمیٰ فیصلہ ہوگا جبکہ حکومتی اتحادی صوبائی وزیر خالق ہزارہ اور مشیر گہرام بگٹی نے ناراض اراکین سے ملاقات کی اور اُنہیں مذکرات کی دعوت دی جسے ایک بار پھر ناراض اراکین نے مسترد کردیاہے۔

ترجمان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا کہ جام کمال وزرات اعلیٰ سے استعفیٰ نہیں دیں گے جبکہ باپ پارٹی کے ناراض اراکین میں سے آج کوئی بھی میڈیا کے سامنے بات کرنے کیلئے نہیں سامنے آیا۔

ناراض اراکین کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تمام اراکین نے اپنے استعفے وزیر خزانہ ظہور بلیدی کے پاس جمع کرادئیے اتفاق رائے کے بعد استعفے گورنر کو ارسال کرینگے۔

Read Comments