'یہ نیب نہیں اپوزیشن آرڈیننس ہے'

سابق چیرمین سینٹ اور ماہر آئین و قانون میاں رضا ربانی نے نیب آرڈیننس ک
شائع 08 اکتوبر 2021 07:22pm

سابق چیرمین سینٹ اور ماہر آئین و قانون میاں رضا ربانی نے نیب آرڈیننس کا پوسٹ مارٹم کردیا۔

رضا ربانی کہتے ہیں موجود آرڈیننس 1999 کے اصل آرڈیننس سے متصادم ہے، یہ نیب نہیں اپوزیشن آرڈیننس ہے، موجودہ کابینہ پارلمیان کے سامنے جوابدہ نہیں، ملک 1962 کے شیڈو آئین کے تحت چلایا جارہا ہے، ملک کو صرف ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جسمیں کوئی مقدس گائے نا ہو۔

سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں نیب آرڈیننس سے متعلق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سینٹر رضا ربانی نے کہا کہ نیب آرڈیننس کی سرکلر کے ذریعے کابینہ سے منظور سے بڑا مزاق نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیا آرڈیننس، 1999 کے نیب آرڈیننس کے بنیاد اصول و ضوابط کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوان بالا اور زیریں اور عدلیہ کے مطابق بنیاد کے خلاف کوئی ترمیم نہیں لائی جاسکتی۔

سابق چیرمین سینٹ نے نیب آرڈیننس کی ایک ایک شق میں موجود تصادات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کو نیب کے دائرے سے نکالا گیا ہے انکی لمبی فہرست ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پروسیجرل لیپسز کو بھی نیب کے دائرے سے نکال دیا گیا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ نیب عدالتوں میں ریٹایرڈ ججز کی تعیناتی ماضی میں اچھا تجربہ نہیں رہا، جوڈیشنل پالیسی اور بار کونسلز بھی ریٹائرڈ ججوں کی بنکنگ سمیت دیگر ٹرائیبیونلز میں تعیناتی کی مخالف ہے۔

رضا ربانی نے اعتراف کیا کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں بھی ہیں، سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اپوزیشن پر الزام تھا کہ این آر او مانگتی ہے۔

رضا ربانی کاکہنا تھا کہ ایسا نا نہیں ہوسکتا کہ عدلیہ اور فوج اپنے احتساب کا الگ طریقہ کار رکھیں اور سیاستدانوں کیکئے نیب آرڈیننس ہو۔

Read Comments