ملک میں انتیس اشیائے خوردونوش مزید مہنگی
مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ۔ تمام تدبیریں الٹی پڑگئیں ۔ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 1.38 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مہنگائی کی مجموعی شرح 14.48 فیصد تک پہنچ گئی ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے سفید پوشی کا بھرم بھی نہ رہنے دیا ۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی پرحکومت کی بے بسی اور بے حسی پرعوام خفا ہے ۔
مہنگائی کے ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کردیئے گئے۔
مہنگائی کی شرح میں 1.38 فیصد کا مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور آلو، ٹماٹر، گھی سمیت 29 اشیائے خوردونوش مہنگی ہوگئی ہیں ، اب مہنگائی کی مجموعی شرح 14.48 فیصد تک پہنچ گئی۔
مہنگائی کے طوفان نے سفید پوشی کر بھرم توڑ دیا، بے قابو مہنگائی رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ غریب عوام کی نیندیں اڑاتی مہنگائی کا گراف 15فیصد تک کے ہندسے کوچھو رہا ۔ ایسے میں بے بس عوام پیٹرول ، آٹا ، چینی کی ہوشربا قیمتیں سفید پوش کے پسینے چڑھا رہی ہیں ۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی پرحکومت کی بے بسی اور بے حسی بھی عوام کاپارہ مزید چڑھا رہا ہے ۔
بے قابو مہنگائی کب تھمے گی ۔ کب عوام زندگی سکھی ہوگی اس کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے ۔
ڈالر 174روپے کی سطح پر
ادھر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹر بینک میں ڈالر 54 پیسے اضافے کے ساتھ 174روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
انٹر بینک میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 54 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر انٹر بینک میں 174 روپے کا فروخت ہو رہا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ڈالر کی بلند ترین سطح ہے۔